.

ایران کے معاملے پر بات چیت کے لیے اسرائیل کا اعلیٰ وفد واشنگٹن جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ تل ابیب امریکی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت تقریبا کھو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن اپنے حلیفوں کے مفادات کو خاطر میں نہیں لا رہا ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے باور کرایا کہ آئندہ دو ہفتوں میں جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے ابتدائی اعلان خارج از امکان نہیں۔

ادھر امریکی ویب سائٹ AXIOS کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو امریکا کی جوہری معاہدے میں ممکنہ واپسی پر گہری تشویش لاحق ہے۔ تل ابیب مختلف طریقوں سے امریکی صدر جو بائیڈن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ تہران پر دباؤ کسی طور کم نہ کریں۔

مذکورہ ویب سائٹ نے ایک اعلی اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کا ایک اعلی سطح کا وفد آئندہ دو ہفتوں کے دوران میں تل ابیب سے واشنگٹن پہنچے گا۔ وفد کے جانے کا مقصد ایران کے حوالے سے بات چیت کرنا ہے۔

وفد میں اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر مئیر بن شبات، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف افیف کوخافی، اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ تامیر ہائمین اور موساد کے سربراہ یوسی کوہین شامل ہوں گے۔

ادھر سیکورٹی امور سے متعلق اسرائیل کی چھوٹی کابینہ نے جلد ہی ایک نیا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ایران کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔ اس سے قبل کابینہ کے وزراء نے اتوار کی شام اس سلسلے میں انٹیلی جنس رپورٹوں سے آگاہی حاصل کی تھی۔