.

پانچ مہلک اور لا جواب ڈرون طیارے کون سے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈرونز عملی طور پر جدید دور میں محاذ جنگ کا ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ بغیر پائلٹ اڑنےوالے یہ جہاز جاسوسی، انٹیلی جنس کارروائیوں، براہ راست حملوں اور کئی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

امریکی نیشنل انٹرسٹ میگزین نے ایک رپورٹ میں 5 انتہائی اہم ڈرون کا تعارف شائع کیا ہے۔ ان ٹاپ 5 ڈرون طیاروں میں MQ-9 Reaper اور GD Avenger1- MQ-9 جیسے ڈرون طیارے نمایاں ہیں۔


MQ-9 Reaper

یہ ایک مسلح ڈرون ہے جو امریکی فوج کے پاس ایک بہترین جنگی ہتھیار ہے۔ یہ ڈرون طیارہ امریکی فضائیہ کے اگلے مورچوں اور محاذوں پر انجام دیے جانے والے آپریشینز میں استعمال کیا جاتا ہے سابق ایم کیو -1 پرڈیٹر فائٹر کا ایک جدید ماڈل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔ یہ اسلحہ کی ایک بڑی مقدار لے جانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اسے دشمن پر براہ راست حملوں میں استعمال کرنے کے ساتھ دو عدد ’ہل فائر‘ میزائل جانے، چھوٹے حجم کے بم گرانے اور ایک چوتھائی ٹن وزنی بم ایک سے دوسرے مقام پر لے جانے اور ہدف پر گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


GD Avenger

دوسرے نمبر پر’’جی ڈی اوینجر‘‘ بغیر پائلٹ کے ریپر جنگی ڈرون جنرل ڈینامکس ایوینجر ڈرون ہے۔یہ ڈرون جیٹ سے چلنے والا ہے اور اس کی طاقت زیادہ ہے اور اس میں آدھا ٹن پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت ہے۔


MQ-4 Global Hawk

گلوبل ہاک ڈرون پرانا ہے ڈرون طیارہ ہے۔ اسے پہلی بار 1998 میں لانچ کیا گیا تھا۔ گلوبل ہاک ورژن 4 ڈرون اس کی جدید شکل ہے۔ کمپنی ڈرون طیاروں کی تعداد بڑھانے اور ان میں جدت پیدا کرنے کے لیے مسلسل کام کررہی ہے۔ اس خود کاراور اپ گریڈ ڈرون میں AESA ایکٹو سکیننگ ریڈار اور بہتر کوآکسیل سینسرنصب ہیں۔


RQ-4 Global Hawk

چونکہ آر کیو 4 گلوبل ہاک ڈرون ’یو 2‘ طیاروں کی اسٹریٹیجک انٹلیجنس معلومات اکٹھا کرنے، فوجی مشنوں میں استعمال ہونے کےساتھ کئی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تاہم امریکی فوج کے زیراستعمال اس ڈرون طیارے کے استعمال کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔

تاہم ، ماہرین کا خیال ہے کہ گلوبل ہاک ڈرون کی مسلسل خریداری اور انھیں تیار کرنے اور اپ گریڈ کرنے کی خواہش ، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اب بھی دنیا کے بہترین ڈرون میں سے ایک ہے۔


EA-18 Growler

تبدیل شدہ روایتی بوئنگ EA-18 گروولرز طویل عرصے سے بغیر پائلٹ طیارے کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن نتائج کی جانچ بنیادی طور پر مطلوبہ ہدف پرموثر کارروائی کے نتائج کے اعتبار سے اول درجے میں شامل ہے۔اس کے باوجود EA-18 گرولر بغیر پائلٹ لڑاکا ڈرون نے حالیہ فلائٹ ٹیسٹ میں ناقابل یقین صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

امریکی بحریہ کے ایسے طیاروں کو بغیر پائلٹ لڑاکا ڈرونز میں تبدیل کرنا ایک حیرت انگیز متاثر کن اقدام ہے ، لیکن بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات یا ڈائنامک مقصد کے لیے بنائے گئے ڈرون کے کم فائدہ مند ہونے کونظراندازنہیں کیا جا سکتا۔