.

افغانستان: قندوز کی مسجد میں خود کش حملہ، 60 افراد جاں بحق، 140 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعے کو افغانستان کے شمالی شہر قندوز کی ایک مسجد میں خود کش حملہ ہوا ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 60 افراد ہلاک جب کہ 140 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں اب تک ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔ طالبان حکام کے مطابق قندوز کی مسجد میں جمعے کو ہونے والا حملہ خود کش تھا۔

قندوز کے صوبائی ہسپتال کے ایک ذرائع کے مطابق اس ہسپتال میں اب تک 35 ہلاک شدگان اور 50 سے زائد زخمیوں کو لایا جا چکا ہے۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی لیکن داعش جو کہ طالبان کا حریف گروہ ہے ماضی قریب میں ہونے والے ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے.

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ذرائع کے مطابق قندوز کے ایک ہسپتال میں کم سے کم 15 افراد کو لایا گیا ہے جو جان سے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ہسپتال کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم ابھی تک 90 سے زیادہ زخمی اور 15 ہلاک شدگان کو وصول کر چکے ہیں لیکن یہ اعداد تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ابھی مزید افراد کو ہسپتال لایا جا رہا ہے۔‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج دوپہر میں ہمارے شیعہ ہم وطنوں کی مسجد میں دھماکہ ہوا ہے جو صوبہ قندوز کے دارالحکومت کے علاقے بندر ضلع خان آباد میں ہوا ہے۔ اس دھماکے میں ہمارے کئی ہم وطن شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سید خوستی نے بھی اس دھماکے کی تصدیق کی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

اس سے قبل سال 2017 اکتوبر میں داعش کے ایک حملہ آور نے کابل کی ایک شیعہ مسجد میں خود کش حملہ کیا تھا جس میں 56 افراد ہلاک جب کہ 55 زخمی ہو گئے تھے۔

جب کہ رواں سال مئی میں ہزارہ برادری کے کابل میں واقع سکولوں پر ہونے والے حملوں میں 85 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت سکول جانے والی بچیوں کی تھی۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔