.

افغانستان میں بچیوں کا تعلیمی مستقبل تاریک، طالبات کے خواب بکھر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال اگست کے وسط میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنھبالنے کے بعد ملک میں موجود لاکھوں طالبات اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئیں اور وہ یونیورسٹیوں میں جانے سے محروم ہیں۔

ان میں سے اکثر یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ان کے عزائم کو کچل دیا گیا اور ان کے عزائم خاک میں مل گئے۔

"ہم بیٹھنے کے لیے پیدا نہیں ہوئیں"

اس تناظرمیں طالبہ حوا نے رائیٹرز کو بتایا کہ اب اسے اپنا وقت گذارنے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ اس لیے وہ دارالحکومت کابل میں اپنے گھر کی کھڑکی کے پاس بیٹھی رہتی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ ہم گھر میں بیٹھنے کے لیے پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ اگر ہم بچوں کی پرورش کر سکتے ہیں، تو ہم اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کر سکتی ہیں۔

لاکھوں افغان لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی طرح بیس سالہ روسی ادب کی طالبہ حوا کو طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے اسکول واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

"دل اداس ہے"

سترہ سالہ سحر گھر کے اندر بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ مگر وہ اب بھی گھر سے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں گھر پر اپنے اسباق کو جاری رکھنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن اسکول، کلاس روم، میرے ساتھیوں اور اساتذہ کا ماحول گھر میں رہنے کے مقابلے میں مختلف ہے۔"

اس نے یہ مزید کہا کہ میں اپنی کلاس میں واپس جانا اور اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کرنا چاہوں گی اور اپنے ساتھیوں اور پروفیسروں کے ساتھ رہنا چاہوں گی۔ میں اسکول جانے سے قاصر ہونے پر غمزدہ ہوں اور میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔

خواب بکھر گئے

اپنے بہت سے ساتھیوں کی طرح، وہ مایوسی اور غصے کے ملے جلے جذبات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کیونکہ مطالعہ اور کام کے لیے ان کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ خاص طور پر جب انتہا پسند تحریک نے تمام نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اسکول واپس جانے کی اجازت دی تو ہائی اسکول کی طالبات کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

طالبان کی پابندیوں یا خوف کی وجہ سے زیادہ تر پبلک یونیورسٹیاں بالکل یا صرف جزوی طور پر کام نہیں کرتی ہیں۔

اگرچہ ملک کے نئے عہدیداروں نے ماضی میں بارہا کوشش کی ہے کہ افغانوں اور غیر ملکی امدادی اداروں کو یہ یقین دلایا جائے کہ طالبان کے قوانین کے مطابق تفصیلات مکمل ہونے کے بعد انسانی حقوق بشمول لڑکیوں کو اسکول جانے اور خواتین کو تعلیم اور کام کرنے کی اجازت کا احترام کیا جائے گا۔