دبئی کی پراپرٹیز میں یورپ اور روس کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ گئی

روس یوکرین جنگ سے روسی شہری بھی امارات کی طرف متوجہ، دبئی کم 'رسک' اور زیادہ منافع والی جائیدادوں کا مرکز بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی سطح پر افراط زر میں غیر معمولی اضافے کے بعد اس کی سطح پچھلے چالیس سال کے مقابلے بلند ترین ہوجانے کے بعد دبئی میں جائیدادیں خریدنے والوں کی تعداد میں تیزی کا رجحان ہے۔ اس صورت حال میں یورپی ممالک اور روس سے تعلق رکھنے والے متمول افراد دبئی پہنچ رہے ہیں۔

ان اہم ملکون کے مالدار لوگوں کو جائیدادیں خریدنے کے لیے دبئی زیادہ بہتر لگ رہا ہے ، وہ دبئی میں جائیدادوں کے محفوظ ہونے کے علاوہ یہاں جائیداد خریدنے کو آسان بھی سمجھتے ہیں کہ یہاں انہیں مقابلتا سستی جائیداد ملنے کا بھی امکان ہے۔ الجاجی پراپرٹی اور 'رئیل اسٹیٹ بزنس' کا ایک اہم نام ہیں۔ انہوں نے کہا ' جب غیر ملکی یہاں کی جائیدادوں اور ان کی قیمت کے بارے میں سنتے ہیں تو بے ساختہ کہتے ہیں ' اوکے یہ مقابلتا کم مہنگی ہے اورہم یہاں سرمایہ لگانے کو تیار ہیں۔

اس افراط زر میں اضافے کی وجہ سے ضروریات زندگی مہنگی ہو گئی ہیں۔ تعمیراتی سامان بھی دنیا بھر میں بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ کنسٹرکشن کمپنیاں اور بلڈر تعمیرات کو بہت مہنگا دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتا دنیا کے بہت سارے ملکوں کی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں نیچے گر رہی ہے۔ لیکن الجاجی کا کہنا ہے متحدہ عرب امارات کا درہم مضبوط ثابت ہو رہا ہے۔ اس لیے دبئی میں رہتے ہوئے ڈویلپرز کے لیے تعمیراتی سامان کی درآمد بھی سستی اور آسان ہے۔

دریں اثنا پراپرٹی سے ہونے والا منافع بھی دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کے مقابلے میں دبئی میں ہی زیادہ ہے۔ آج بھی دبئی ہی پراپرٹی کے سودوں میں زیادہ منافع دیتا ہے۔ ' الجاجی نے اس حوالے سے مختلف بڑے شہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' اگر آپ سنگا پور ،ہانگ کانگ یا یورپی شہروں میں پراپرٹی خریدتے ہیں تووہاں آپ کو اڑھائی فیصد تک منافع ہو سکتا ہے جبکہ دبئی میں پانچ فیصد تک منافع جا سکتا ہے۔ ' ایک سوال کے جواب میں الجاجی نے کہا بلا شبہ پراپرٹی کی خریداری میں 'رسک ' کو دیکھنا لازم ہے مگر یورپی ملکوں کے لوگ یہاں دبئی کو زیادہ 'رسک فری' سمجھتے ہوئے آرہے ہیں۔

امارات میں روسی خریدار

الجاجی کے بقول ' متحدہ عرب امارات میں جائیداد خریدنے والوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ روس اور یوکرین کی جنگ ہے۔ اس وجہ سے دیگر کئی ممالک کے علاوہ خود روس سے بھی پراپرٹی خریدنے میں دلچسپی لینے والی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں کہوں گا کہ افراط زر کے بڑھنے کے نقسانات اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ پراپرٹی سیکٹر میں طلب میں نمایاں اضافہ بھی سامنے آرہا ہے۔' ان کا کہنا تھا حالیہ مہینوں میں روسی شہریوں کے لیے کئی آپشنز سامنے آئی ہیں تاکہ وہ سرمایہ کاری کر سکیں۔ اسی طرح دبئی پراپرٹی کی خدداری کے لیے وسط ایشیائی ریاستوں کے سرمایہ کاروں کے لیے بھی بڑی کشش رکھتا ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں