سعودی عرب کی تاریخ کے مشہورفراڈ پربننے والی ایکشن فلم کی اداکارہ فاطمہ البنوی سےملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی تاریخ میں ہونے والے ایک غیرمعمولی فراڈ پربنائی جانے والی ایکشن فلم ’الھامور‘ میں اداکاری کرنے والی فاطمہ البنوی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے اس فلم اور فراڈ کیس کے تہلکہ خیز واقعات کا انکشاف کیا ہے۔

اداکارہ فاطمہ نے بتایا کہ کس طرح فلموں ’الھامور‘ اور ’لانک ٹریک‘ کی وجہ سے وہ رومانوی اداکاری سے دور ہو کرایکشن اور تعاقب کی دنیا میں جانا پڑا۔ اس فلم کو ریڈ سی فیسٹیول کے افتتاحی سیشن 2021 میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

انہوں نے جدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں اپنی حال ہی میں ریلیز ہونے والی نئی کتاب " دوسری کہانی" اور قاہرہ اور جدہ میں اس کی اشاعت پر بات کی۔ فاطمہ نے اپنے طویل انٹرویو میں بتایا کہ وہ کیا چیز تھی جو ان کے کہانیاں لکھنے اور فلموں کی طرف آنے کا محرک بنی تھی۔؟

*سعودی عرب کی تاریخ کے سب سے مشہور فراڈ پر بنائی جانے والی فلم میں شرکت

فاطمہ البنوی : یہ ایک ایسی فلم ہے جو ایک ڈرامہ اور بلیک کامیڈی کے گرد گھومتی ہے جس میں "ہمور سوا" کے نام سے مشہور فراڈ کی سچی کہانی فلمی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ یہ واقعہ سعودی عرب کی تاریخ کا سب سے مشہور فراڈ ہے، جو دوسری صدی کے آغاز میں ہوا تھا۔ یہ قصہ ایک ایسے نوسرباز تاجر کے گرد گھومتا ہے جس نے لوگوں کو منافع کا جھانسہ دے کر جعلسازوں کا ایک نیٹ ورک بنایا تھا۔ اس نام نہاد کاروباری دھوکے بازکے ہاتھوں اپنی جمع پونجی برباد کرنے والے متاثرین کی تعداد 40,000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس فراڈ کی مالیت ایک ارب 400 ملین سعودی ریال تھی۔ اس واقعے پر فلم تیار کی گئی جسے سعودی عرب کے سینما گھروں میں دکھایا گیا۔ اس فلم کی ہدایت کاری عبد الالہ القرشی نے کی۔ اس کی کہانی ہانی کعدور اور عمر باھبری نے لکھی ہے۔ فاطمہ کہتی ہیں میرے ساتھ اس فلم میں فہد القحطانی، خالد یسلم، اسماعیل الحسن، خیریہ ابو لبن اور حسام الحارثی نے اداکاری کی۔

*فلم کی وجہ سے رومانوی اداکاری سے دور اور ایکشن کی دنیا جانا پڑا

فاطمہ: اپنےفلمی کیریئر آغاز کے بعد سےمیں رومانوی کردار پیش کر رہی ہوں۔سنہ2015ء سے جب میں نے فلم "برکا یقابل برکا" پیش کی تو اس فلم نے اپنی نمائش کے وقت سعودی عرب اور عرب دنیا میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ فلم سعودی عرب میں دکھائی جانے والی چند بڑی فلموں میں سے ایک تھی جسے پہلی سنیما گھروں میں دکھایا گیا۔

وہاں سے میں نے متنوع کرداروں کے ایک گروپ کے ذریعے اپنی پہچان اور اداکاری تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تجدید کی خواہش ان چیزوں میں سے ایک تھی جو میرے نئے سنیما کام میں میرے ذہن پر میں پہلے سے موجود تھی۔ واقعی میں یہی ہوا۔ یہ فلم "سکہ طویلہ‘‘نیٹ فلکس پلیٹ فارم پر دکھائی گئی۔ اس فلم میں مَیں نے ایکشن اداکاری کی۔ اس فلم میں میرے ساتھ سعودی فنکار براء عالم نے کام کیا تھا۔ میری تجدید اور تجربے سے محبت، کچھ نیا پیش کرنے کی اپنی خواہش اور اپنےمداحوں اور ناظرین کو حیران کر دینے کی خواہش نے مجھے ایکشن فلم کے آپشن کو اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اگر میں ایک سانچے میں رہتی تو بوریت محسوس کرتی اور دوسری طرف ناظرین کو بھی ایک ہی انداز میں اداکاری زیادہ پسند نہ آتی۔

* کیا فلم "لانگ ٹریل" ایک ایکشن فلم ہے؟


فاطمہ: سچی بات یہ ہے کہ فلم "لانگ ٹریل" [ سکہ الطویلہ] کو مختصر کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے کہ یہ ایک ایکشن مووی ہے۔ یہ فلم ایک انسانی دھارے کےگرد گھومتی ہے جس میں ایک شخص اپنی ہمشیرہ کے ساتھ پرانے خاندانی طرز زندگی کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ یہ طرز زندگی آج کے ہمارے دور میں ناپید ہے۔ اب ہر شخص اکیلا رہتا ہے۔

آپ کا اپنی فلم "بسمہ" کے بارے میں کیا خیال ہے؟

فاطمہ: یہ میرے لیے ایک خاص معاملہ ہے کیونکہ میں اس کی نمائش کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہوں، کیونکہ یہ میرا پہلا فنی تجربہ ہے جس میں میں نے فلم کی کہانی تحریر کرنے، ہدایت کاری اور اداکاری کو یکجا کیا ہے۔ اب میں ایڈیٹنگ کے ایک طویل سفر میں مصروف ہوں تاکہ اپنی پہلی فیچر فلم کو حتمی شکل دے سکوں جس میں میں نے ہدایت کاری اور اداکاری کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری تحریر، ہدایت کاری اور اداکاری کا امتزاج میرے لیے طاقت کا باعث بنے گا۔ یہ ایسی مشقت نہیں جو مجھے کمزور کر دے۔ میرا ماننا ہے کہ میں جو کچھ کر رہی ہوں وہ طاقت کا نقطہ آغاز ہے نہ کہ اندرونی کشمکش ہے،کیونکہ ہدایت کاری اور تحریر کا عمل ہمیشہ فن دوران اداکاری کے ساتھ الجھتا ہے، لیکن جب آپ اس کے درمیان توازن پیدا کرتے ہیں تواس سےآپ کو فائدہ ہوتا ہے۔ جب میں کسی کردار کو مجسم کرتی ہوں تو میرے ذہن میں ہدایت کار کا وژن ہوتا ہے جو مجھے ہدایت کرتا ہے۔ جب میں کسی کام کو ڈائریکٹ کرتی ہوں تو میں اپنے رجحانات سے فن کار کو متاثر کرتی ہوں جو مجھ سے آسانی سے ہدایات حاصل کرتا ہے۔ میں ایک دن پہلے ایک اداکارہ کے طور پر ان کی جگہ کسی دوسرے ہدایت کار کے سامنے کردار ادا کر سکتی ہوں۔

اپنی پہلی کتاب ’قصۃ الاخریٰ‘کیوں کر لکھی؟

فاطمہ: کتاب لکھنے کا خیال 2015ء میں جدہ کی سڑکوں سے عوام سے ان مسائل کے بارے میں کہانیاں اکٹھا کرتے وقت آیا۔ مجھے لوگوں کے سائل کے بارے میں جان کاری چاہیے تھی جو ان کے دماغوں میں موجود تھے۔ اس وقت کا جدہ موجودہ جدہ سے بالکل مختلف تھا۔ آج ہم جدہ کو بحیرہ احمر فلم فیسٹیول سمیت بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت ایسا کوئی کھلا پن نہیں تھا جیسا کہ ہم اب دیکھتے ہیں۔ اس لیے کہانیاں جمع کرنا مشکل تھا۔ اس وقت لوگ کہانی بیان کرتے خوف اور جھجھک محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے میں نے کیفے، میلوں، بازاروں اور شاہراؤں پر جانا شروع کیا جن کے بارے میں میرے پاس معلومات نہیں تھیں۔

* اس کتاب کی اشاعت میں کتنا وقت لگا؟

فاطمہ: میں نے امریکا میں اپنی تعلیم کے دوران 2015ء سے 2018 کے عرصے میں 50 فی صد کہانیاں جمع کرلی تھیں اور مجموعہ کے سفر کے پہلے تین سالوں کے بعد میں نے اپنے اندر کہانیوں کی لہریں اُڑتی ہوئی دیکھیں۔ یہاں تک کہ مجھے احساس ہوا کہ یہ وہ کہانیاں تھیں جنہوں نے مجھے گلے لگایا۔ اپنے سفر کے دوران کہانیاں سناتے اور لکھتے ہوئے میں نے خود کو اپنی ڈائریوں کا کچھ حصہ لکھتے ہوئے پایا۔ ان ڈائریوں میں میری بچپن کی یادیں بھی شامل تھیں، میری پرورش اور جدہ میں گذرے زندگی کے ایام کے بارےمیں میں نے ڈائری میں بہت کچھ لکھ رکھا تھا۔

* اس کتاب میں کیا کچھ ہے اور اس میں کس نوعیت کا مواد ہے؟

فاطمہ: اس کتاب میں نجی، نفسیاتی اور سماجی یادداشتیں شامل ہیں جسے میں نے اپنے عزیز ترین ساتھیوں کی یادوں اور کہانیوں کے ساتھ مجسم کیا۔ یہ میرے لیے مصدرالہام ، میرے دادا رحمۃ اللہ،شمالی ابحر کے مظلوم محلے سے مقامی محلوں اور جرمن دیہاتوں تک زمان ومکان کے نئے معانی دریافت کرنے اور انسانی کہانیوں کو سمویا گیا۔ میں نے تاریخ کا کچھ حصہ قلمبند کیا ہے جسے جدہ شہر کی عصری انسانی کہانی کی شکل میں بیان کیا گیا۔ شہر کے لوگوں کی حقیقت پسندانہ کہانیوں کے ذریعےجدہ میں سماجی زندگی پر روشنی ڈالی۔ ان کہانیوں میں دادا اور پوتی کے درمیان سب سے نمایاں خاص رشتے کے لیے میرے دادا کی یادیں بھی شامل ہیں۔ کتاب میں خواتین، مردوں اور نوجوانوں سب کے لیے مفید اور سبق آموز واقعات شامل کیے گئے ہیں۔

*کچھ نے کتاب کو ’کتاب نسواں‘ قرار دیا؟

فاطمہ: میں اپنی کتاب کےبارے میں اس تخیل کو قبول نہیں کرتی یہ خواتین سے متعلق کتاب ہے اور اس میں صرف خواتین کا دفاع کیا گیا ہے۔ یہ ایک سماجی و نفسیاتی کتاب ہےاور میں خواتین کو کتاب کا اہم اور خاص موضوع قرار دینے کے خیال کے بھی خلاف ہوں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ خواتین معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہیں اور جب انہیں کسی خاص اقدام میں رکھا جاتا ہے، تو وہ پسماندہ ہو جاتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ایک مصنفہ کی حیثیت سے میں نے معاشرے کی ترقی میں شامل تمام طبقات اور اس کے تمام عناصر پر یکساں روشنی ڈالی ہے۔ بچوں سے لے کرنوجوانوں تک اور خواتین سے لے کر بزرگوں تک ہرایک کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔میرا خیال ہے کہ میری کتاب میں وہ سب ہیرو ہیں جن کی کہانیاں میں نے اکٹھی کی ہیں وہ بہادر شخصیات ہیں، خاص طور پر ان میں سے خواتین بھی ہیں کیونکہ وہ اپنے خوف پر قابو پانے میں کامیاب ہوئیں اور اپنی کمزوری اور خوف کا کچھ حصہ کتاب میں شائع کرنے کی اجازت دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں