ایران اور جرمنی کےدرمیان سفارتی بحران، تہران سے دو جرمن سفارت کار بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور جرمنی کے درمیان سامنے آنے والا تازہ سفارتی بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ برلن سے دو ایرانی سفارت کاروں کی بےدخلی کے بعد ایران نے بھی اپنے ہاں تعینات دو جرمن سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

برلن نے 22 فروری کو ایک ایرانی نژاد جرمن شہری کو ایرانی عدالت کی طرف سے خلاف سزائے موت سنائے جانے کے بعد بہ طور احتجاج دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایران کے داخلی اور عدالتی امور میں جرمن حکومت کی مداخلت کے بعد ناپسندیدہ عناصر کے طور پر دو جرمن سفارت کاروں کو بے دخل کردیا گیا ہے"۔

آج بدھ کو ایران کے تسنیم خبر رساں ادارے نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کے حوالے سے بتایا کہ دو جرمن سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کو کہا گیا ہے۔

کنعانی نے کہا کہ جرمن سفارت کاروں کی ملک بدری کا فیصلہ برلن سے دو ایرانی سفارت کاروں کی بے دخلی اور ایرانی عدالتی معاملات میں مداخلت کا جواب ہے۔ انہوں نے جرمنی کے رویے کو’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔

جرمنی کا رد عمل

جرمن وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بدھ کے روز جرمن سفارت کاروں کو بے دخل کرنا متوقع تھا لیکن یہ ایران کی ’من مانی اور بلاجواز‘ ہے۔ "انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی ایران کی جانب سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ ایران کی طرف سے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں اور روس کو جنگی ڈرونز کی فراہمی بھی باعث تشویش ہے۔

وزارت خارجہ نے ایران کے فردو جوہری پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی اور ایرانیوں کے وحشیانہ دباؤ کو بھی تشویش کی دوسری وجوہات قرار دیا اور کہا کہ جرمنی ان پیش رفت کے بارے میں خطے اور یورپ کے ساتھ ساتھ امریکا کے ساتھ قریبی بات چیت کررہا ہے۔

گذشتہ ماہ جرمن وزیر خارجہ اینالینا بربوک نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے تاکہ برلن ایرانی عدالت کی جانب سے ایرانی نژاد جرمن شہری کو سزائے موت سنانے کی مخالفت کرسکے۔

22 فروری کو برلن نے 67 سالہ جمشید شارمہد کے خلاف سزائے موت کو "مکمل طور پر ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا۔

جمشید پر اپریل 2008 میں جنوبی ایران میں شیراز کی ایک مسجد پر حملے میں حصہ لینے کا الزام تھا جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدلیہ نے ان پر ایف بی آئی اور سی آئی اے کے افسران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کا الزام بھی لگایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں