حوثیوں کے نئے قانون نے یمن کا بینکنگ سسٹم خطرے میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بینکنگ سسٹم پر تباہ کن اثرات کے انتباہ کے باوجود حوثی ملیشیا نے کل منگل کو ایک "خطرناک" بل منظور کیا ہے جو اسے بینکوں میں موجود تمام بینک ڈپازٹس کو حاصل کرنے اور کنٹرول کرنے کا حق دیتا ہے۔

یمنی "المصدر آن لائن" ویب سائٹ کے مطابق صنعاء میں غیر تسلیم شدہ "پارلیمنٹ" نے "سودی لین دین کی روک تھام کے قانون" کی منظوری دی جسے اس سے قبل ستمبر 2022 میں ملیشیا حکومت نے منظور کیا تھا۔

اس وقت اس منصوبے کو بینکوں اور مالیاتی انجمنوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کے ماہرین کی ٹیم نے بھی اس پر تنقید کی تھی۔

گذشتہ فروری میں جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں پابندیوں کی ذمہ دار کمیٹی کی ماہرین کی ٹیم نے اس قانون کی منظوری کے خطرات اور اس کے کمزور معیشت کے لیے اس کے نتائج اور یمن میں بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں تقسیم، ملک میں قحط اور انسانی بحران کے خطرات سے بھی خبردار کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "بہت سے اسٹیک ہولڈرز نے اطلاع دی ہے کہ یہ قانون یمن میں بینکنگ اور مالیاتی شعبے کی مکمل تقسیم کا باعث بنے گا۔ یمنی بینکوں اور چیمبرز آف کامرس کی ایسوسی ایشن اس قانون کو جاری کرنے کی شدید مخالفت کرتی ہے۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ بینکوں نے اپنے ڈیپازٹس کا تقریباً 65 فیصد ٹریژری بلز میں صنعاء میں سنٹرل بینک آف یمن میں لگایا ہے۔ مرکزی بینک آف یمن کی تقسیم کے بعد سے تجارتی بینکوں کو اس سے کوئی سود نہیں ملا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ نئے قانون کے تحت ڈپازٹس پر کوئی سود ادا نہیں کیا جائے گا اور سود صرف بینکوں کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے بینکوں سے صارفین کی توقع کے مطابق منافع کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں