عبدالرحمٰن الراشد

عبدالرحمٰن الراشد

عبدالرحمٰن الراشد عالمی شہرت یافتہ صحافی ہیں۔ وہ لندن سے شائع ہونے والے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف اور العربیہ نیوز چینل دبئی کے جنرل مینجر رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کی مجلس ادارت کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ الشرق الاوسط کے ساتھ کالم نگار کی حیثیت سے ان کی وابستگی برقرار ہے اور وہ اس کے لیے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

کیا ایرانی نظام کا دھڑن تختہ خطے میں ہمارے مفاد میں ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ اس تجزیے کو اس امر کی ضمانت نہ سمجھا جائے کہ ایرانی نظام ( رجیم) حصے بخروں میں بٹنے جا رہا ہے یا اس کا دھڑن تختہ ناگزیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تہران میں رجیم کے پاس ایک......

قطر اور اسلحہ خریداری کی سیاست !

اگر قطر کے حجم اور آبادی کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس کے حالیہ دفاعی سودے اس سے دس گنا بڑی کسی ریاست کے دفاع کے لیے کافی ہیں۔ خلیج کے قطر کے ساتھ تنازع پھوٹ پڑنے کے بعد ......

علی عبداللہ صالح کے قتل نے یمنیوں کو کیسے متحد کردیا؟

اگر یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح پانچ روز قبل مارے جاتے تو اس کا الزام سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد اور قانونی حکومت پر عاید کیا جاتا لیکن انھیں حوثیوں نے قتل کیا ہے اور انھوں نے قتل کی......

شدت پسند مسلم علماء پر پابندی

سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گیارہ انتہا پسند شخصیتوں اور دو انتہا پسند اسلامی تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کو دہشت......

ایران سے جنگ کے آپشنز

ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ محاذ آرائی کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔یمن سے حوثیوں کا سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل ایک خطرناک فوجی پیش رفت ہے اور اس کو ایران کے......

کردستان کی علاحدگی کی مخالفت اور کردوں کی حمایت کے بیچ

کرد لیڈر مسعود بارزانی کے لیے یہ ناگزیر ہوچکا تھا کہ وہ اپنے شہریوں یعنی عراقی کردوں کی ایک الگ اور آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے قسمت آزمائی کرتے اور ان کے دیرینہ خوابوں کو شرمندۂ تعبیر......

سعودی عرب کی اسلحہ پالیسی

ہم قبل اس کے کہ گذشتہ ہفتے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ ماسکو کے موقع پر دو دفاعی سودوں کے بارے میں گفتگو کریں،یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم سوال پر غور کر لیا جائے اور وہ......

برسوں کے بعد غزہ کے دَر کھل گئے

بالآخر غزہ کی قیادت نے کھلی بانہوں سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔اس کے قیدیوں کو رہا کردیا ہے اور مقامی انتظامیہ کی چابیاں بھی اس کے حوالے کردی......