.

اردن، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی میں پانی پر تعاون کا سمجھوتا

بحیرۂ احمر سے بحیرۂ مردار تک 180 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن،اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی نے پانی کے ذخائر کے انتظام اور مشترکہ ترقی اور سمندری پانی کو مصفیٰ کرکے استعمال میں لانے سے متعلق سمجھوتا طے پاگیا ہے۔

اس سمجھوتے پر تینوں فریقوں کے نمائندوں اسرائیل کے علاقائی ترقی کے وزیر سلوان شالوم (بائیں)،اردن کے پانی اور زراعت کے وزیر حازم نصر (درمیان میں) اور فلسطینی واٹر اتھارٹی کے سربراہ شداد عطیلی نے سوموار کو واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بنک کے حکام کی موجودگی میں دستخط کیے ہیں۔

اس سمجھوتے کے تحت عقبہ میں بحیرہ احمر کے دہانے پر پانی کو مصفیٰ کرنے کا پلانٹ لگایا جائے گا۔اس سے حاصل ہونے والے پانی کو اسرائیل اور اردن دونوں استعمال کریں گے۔اس کے بدلے میں اسرائیل اردن میں استعمال کے لیے جھیل تبریاس سے پانی چھوڑے گا۔

اسرائیل اپنے میکروٹ پلانٹ سے فلسطینی اتھارٹی کو غرب اردن کے علاقے میں استعمال کے لیے قریباً دو سے تین کروڑ مکعب میٹر پانی سالانہ فروخت کرے گا۔اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر سے بحیرہ مردار تک 180 کلومیٹر طویل پائپ لائن بھی بچھائی جائے گی۔اس کے ذریعے بحیرہ مردار کی جانب پانی بھیجا جائے گا۔

عالمی بنک کے نمائندے انگر اینڈرسن اور اسرائیل کے پانی اور علاقائی تعاون کے وزیر سلوان شالوم نے اس سمجھوتے کو تاریخی قرار دے کر سراہا لیکن آبی اور ماحولیات کے ماہرین نے اس سمجھوتے پر تنقید کی ہے اور اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ مردار کا ہرسال ایک ارب کیوبک میٹر پانی ضائع چلا جاتا ہے۔اب نئے سمجھوتے کے تحت اس کو اس مقدار کا صرف دس فی صد لوٹایا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بحیرہ مردار کی ماحولیاتی حساسیت خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔

بحیرہ مردار اور بحیرہ احمر کے درمیان پائپ لائن بچھانے پر تیس سے چالیس کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی اور یہ کام 2014ء میں ٹینڈر کے اجراء کے بعد تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ اس منصوبے کے لیے رقم کون دے گا۔