.

نیلسن منڈیلا عہد ساز شخصیت، تاریخ ساز جنازہ

عرب دنیا میں سب سے بڑا جنازہ امام حنبل اور چھوٹا حسن البنا کا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخ کی غیر مرتب 'گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ' کی لوح میں ہزاروں عہد ساز شخصیات کے نام محفوظ ہیں جنہیں ان کے چاہنے والوں نے بعد از وفات نہ صرف یاد رکھا بلکہ ان کے عہد ساز دور کی طرح ان کے جنازوں کو بھی "تاریخ ساز" بنا دیا۔ بعض عرب مشاہیر کے جنازے کثرت تعداد کے باعث مشہور ہوئے اور کچھ کے حامی اور مداح "بوجوہ" شریک نہ ہو سکے اور گنتی کے چند افراد نے راز داری میں انہیں سپرد خاک کر دیا۔

جنوبی افریقا میں سیاہ فاموں کے "قائد اعظم" آنجہانی نیلسن منڈیلا بھی انہی عہد ساز شخصیات میں شمار ہوں گے جن کے جنازے میں کئی ملین افراد شرکت کر کے ان سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ آنجہانی منڈیلا کی آخری رسومات میں دنیا بھر سے ہزاروں وفود اس عظیم ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرنے جوہانسبرگ میں موجود ہیں۔

تاریخ ساز جنازے

نیلسن منڈیلا کے تاریخ ساز جنازے کی مناسبت سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے تاریخ کے اوراق پلٹے اور اب تک عرب دنیا کے سب سے بڑے اور بلحاظ شرکت سب سے چھوٹے جنازوں کے بارے میں ایک معلوماتی رپورٹ تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق تاریخ نے خلافت عباسیہ کے دور میں حکومت وقت کی اذیتوں کا سامنا کرتے ہوئے دنیا سے کوچ کرنے والے امام احمد بن حنبل کا جنازہ سب سے بڑا تھا۔ ان کے بعد کئی عالمی مشاہیر ایسے گذرے جن کے جنازوں میں کئی ملین افراد نے شرکت کی۔ کچھ تاریخ ساز شخصیات میں ایسے نام بھی شامل ہیں جن کی تدفین یا آخری رسومات میں افراد اتنے کم تھے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا۔ ان میں مصر کی اخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا کا نام سر فہرست ہے۔ ان کی میت کو کندھا دینے والوں میں شہید کی بیوہ، بیٹیاں، 90 سالہ بوڑھے والد کے سوا کوئی اور شخص نہیں تھا۔

بڑے جنازوں میں سابق مصری صدر جمال عبدالناصر، اپنے طربیہ نغموں سے عربوں کے دلوں کو گرمانے والی الجزائر کی ملکہ ترنم ام کلثوم اور بھارتی ریاست تامل ناڈو [مدراس] کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی سی این آنا ڈورائے کے سفر آخرت بڑے جنازوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔

سنہ 1959ء میں دنیا سے کوچ کرنے والے سی این آنا ڈورائے اس دنیا سے رخصت ہوئے جب بھارت کی بہت سی ریاستوں میں ٹیلی ویژن کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کی آخری رسومات میں کم سے کم ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد شریک تھے۔ تب اس ریاست کی کل آبادی جنوبی افریقا کی موجودہ آبادی کے برابر یعنی 05 کروڑ تھی۔

سی این آنا ڈورائے اور نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں کوئی مماثلت بھی نہیں ہو سکتی کیوںکہ منڈیلا کی آخری رسومات کو پوری دنیا ٹی وی اسکرین اور کیمرے کی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ البتہ افریقی سیاہ فاموں کے نجات دہندہ کی آخری رسومات کو مصر کے جمال عبدالناصر اور الجزائر کی گلوکارہ ام کلثوم کے جنازوں سے مشابہت دی جا سکتی ہے۔

جمال عبد الناصر 28 ستمبر 1970ء کو 53 سال کی عمرمیں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ تین دن تک جاری رہنے والی ان کی آخری رسومات میں کم سے کم 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔ بعض اداروں نے یہ تعداد پانچ سے چھ ملین تک بیان کی ہے۔

جمال عبد الناصر کے بعد کوکبِ مشرق ام کلثوم کا انتقال تین فروری 1978ء کو ہوا۔ ان کی نماز جنازہ میں بھی چار ملین سوگوراں نے شرکت کی تھی۔ جنازوں کے اعتبار سے مشاہیر عرب میں سابق الجیرین صدر ھواری بومدین کا نام بھی شامل ہے۔ صدر بومدین کا دسمبر1978ء میں انتقال ہوا۔ ان کی آخری رسومات سے اندرون اور بیرون ملک سے دو ملین فراد شریک ہوئے تھے۔ اس طرح یہ معاصر عرب دنیا کا تیسرا بڑا جنازہ قرار دیا جاتا ہے۔

قد آور عربوں کے چھوٹے جنازے

مشاہیرعرب میں سابق مصری ادیب اور مصنف مصطفیٰ لطفی المنفلوطی، حسن البنا اور سابق موسیقار سید درویش کے جنازے عرب تاریخ کے سب سے چھوٹے جنازے سجھے جاتے ہیں۔ مصطفیٰ منفلوطی کی آخری رسومات کے وقت ان کے گھر میں سیکڑوں افراد جمع تھے، مگر اسی روز یعنی 12 جولائی 1924ء کو معروف رہ نما سعد زغلول پر قاتلانہ حملے کی خبر نے کہرام مچا دیا۔ جب جنازے میں شریک لوگوں تک یہ خبر پہنچی تو وہ اپنے پسندیدہ ادیب کی وفات کا غم بھول گئے اور سب نے سعد زغلول کے گھر کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ یوں ان کی نماز جنازہ میں بھی صرف پانچ سے چھ افراد شریک تھے۔

اس سے ایک سال قبل 15 ستمبر1923ء کو مصریوں کے مقبول لیڈر طویل جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے، اسی روز معروف موسیقار سید درویش کا انتقال ہو گیا۔ لوگ سعد زغلول کی وطن واپسی کی خوشی میں موسیقار کا جنازہ وہیں چھوڑ کر اپنے محبوب لیڈر کے استقبال کے لیے اسکندریہ چل پڑے۔ یوں زغلول ایک مرتبہ پھر دوسری عرب شخصیت کا جنازہ متاثر کرنے کا باعث بنے۔ عرب دنیا کا تیسرا سب سے چھوٹا جنازہ اخوان المسلمون کے بانی رہ نما امام حسن البناء کا تھا۔ انہیں 12 فروری 1949ء کو ایک قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے لواحقین کو نماز جنازہ کا اہتمام کرنے کی اجازت نہ تھی۔ چنانچہ امام البناء کی بیوہ لطیفہ حسین الصوری ، بیٹیوں اور نوے سالہ والد احمد عبد الرحمان البناء نے جنازے کو کندھا دیا اور ان کی تدقین کی۔ مرحوم کی بیوہ لطیفہ حسین اس وقت حاملہ تھیں۔ والد کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی کا نام "استشہاد" رکھا۔

امام احمد بن حنبل کا جنازہ

عرب دنیا کی تاریخ میں جب بھی عظیم ہستیوں کے جنازوں کا ذکر ہو گا ان میں امام احمد بن حنبل کے جنازے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ امام عبدالوھاب الوراق کی مرتب کردہ تفصیلات کے مطابق امام احمد بن حنبل 12 ربیع الاول 241ھ بمطابق 861ء کو 77 برس کی عمرمیں فوت ہوئے۔ ان کی میت کو بنی ہاشم خاندان کے 100 افراد نے غسل دیا۔ جب جنازہ اٹھا تو کندھا دینے والوں میں آٹھ لاکھ مرد اور 60 ہزار خواتین یعنی مجموعی طور پر ایک ملین افراد نے شرکت کی تھی۔ امام الوراق مزید لکھتے ہیں کہ خلیفہ وقت متوکل باللہ نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ جنازے کے شرکاء کی گنتی کریں۔ ان کی گنتی کے مطابق جنازے میں 15 لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔