.

یمن: گاڑیوں کی بیٹریاں چارج کرنے کے لیے کلاشنکوف کا استعمال

مقامی باشندوں کے پاس 50 ملین ذاتی ہتھیار موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں اسلحہ کی بھرمار کوئی نئی خبرنہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یمن میں کم سے کم ساٹھ ملین افراد کے پاس ذاتی استعمال کے لیے ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیارموجود ہیں، تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ یہ اسلحہ دفاع کے علاوہ کئی دوسرے مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے بھی اسلحہ کو دفاع کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں النجدہ شہر کے دو پولیس اہلکاروں نے گاڑی کی بیٹری بند ہونے کے بعد اسے دوسری گاڑی کی بیٹری کی مدد سے چارج کرنے کے لیے کلاشنکوف استعمال کی۔ پولیس اہلکاروں کے پاس الیکٹرک کیبل نہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے دو کلاشنکوفیں تار کی جگہ دونوں بیٹریوں سے جوڑیں، جس کے نتیجے میں کام کرنے والی بیٹری نے بند دوسری گاڑی کی بیٹری کو پاور سپلائی کی اور سے چالو کردیا۔

خیال رہے کہ یمن میں ملک میں غربت کے باوجود تقریبا ہر دوسرے شخص کے پاس ذاتی اسلحہ موجود ہے۔ یوں کم سے کم 50 ملین افراد ایسے ہیں جن کے پاس کم سے کم ایک یا دو ذاتی نوعیت کے ہتھیار موجود ہیں۔ سنہ 2010ء کے بعد حکام نے اسلحہ جمع کرانے کی ایک مہم شروع کی تھی۔ اس مہم کے دوران 02 لاکھ 46 ہزار افراد سے اسلحہ واپس لیا گیا تھا۔

شمال مشرقی یمن کے قبائل میں ذاتی اسلحہ رکھنا ایک روایت ہے۔ مسلح گروپوں سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ان قبائل کے پاس بڑی تعداد میں ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیارموجود ہیں۔ قبائل میں کم سے کم ہرعام آدمی کے پاس ایک سے تین ہتھیار ہیں جبکہ قبائلی سرداروں اور ان کے عمائد کے پاس فی کس کم سے کم دس سے بیس ہتھیار پائے جاتے ہیں۔