.

باراک اوباما کی دشمن ملک کے ہم منصب راول کاسترو سے ملاقات

خیر مقدمی کلمات میں پہل اوباما نے کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقا کے نسل پرست مخالف لیڈر آنجہانی نیلسن منڈیلا کی موت نے عالمی قائدین حتیٰ کہ ایک دوسرے کے روایتی دشمنوں کو بھی ایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا۔

نیلسن منڈیلا کے آبائی شہر"سویٹو" میں ان کی آخری رسومات کی تقریبات میں شریک عالمی رہ نماؤں میں امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے روایتی حریف "کیوبا" کے صدر راول کاسترو بھی موجود تھے۔ دونوں صدور نے اس موقع پر نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت کی۔

خیال رہے کہ سرد جنگ کے دور میں امریکا اور کیوبا ایک دوسرے کے سخت مخالف رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق منڈیلا کی خدمات میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اسٹیج پرآنے سے قبل صدر اوباما نے راول کاسترو سے مصافحہ کے لیے نہ صرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی بلکہ خیر مقدمی کلمات کا آغاز بھی انہوں نے ہی کیا۔ اس کے ردعمل میں کیوبا کے صدر راول کاسترو نے بھی بادل نخواستہ امریکی صدر سے خیریت دریافت کی۔

گو کہ دونوں روایتی حریف ممالک کے صدور کے درمیان یہ غیر رسمی ملاقات دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے زیادہ اہمیت کی حامل قرار نہیں دی جا سکتی مگر امریکی صدر کی سلام میں پہل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ملک کیوبا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکا اور کیوبا کے صدور کا مصافحہ جلسے کے شرکاء کے لیے حیران کن بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شرکاء نے ان کی ملاقات میں گہری دلچسپی لی اور اسے خوش آئند قرار دیا۔

خیال رہے کہ موجودہ امریکی صدر اپنے پیش رو صدور کی نسبت روایتی حریف ممالک کے رہ نماؤں کے بارے میں قدرے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ باراک اوباما نے نہ صرف کیوبا کے اپنے ہم منصب سے سلام میں پہل کی ہے بلکہ گذشتہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ایرانی صلح جو صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو فون کرنے میں پہل بھی اوباما نے کی تھی۔ دونوں صدور کے درمیان یہ براہ راست ٹیلیفونک رابطہ سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد پہلا واقعہ ہے۔

کیوبا کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی کشیدگی نصف صدی پرمحیط ہے۔ اس سے قبل موجودہ صدر راول کاسترو کے بھائی فیڈل کاسترو کے دور حکومت میں دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ زیادہ شدت اختیار کرگئی تھی۔