اسرائیل میں سیاہ فام رکن پارلیمنٹ کا عطیہ خون مسترد

نسلی امتیاز پر مبنی فیصلہ ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کے لئے وبال جان بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی ایک رفاہی انجمن نے ایتھوپیئن نژاد سیاہ فام رکن پارلیمنٹ سے خون کا عطیہ لینے سے معذرت کر کے جدید دور میں نسلی امتیاز کی شرمناک مثال قائم کی ہے، جس کے بعد ملک میں ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کو ایک بڑے اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے اسرائیل میں سرگرم ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کو وہی مرتبہ اور مقام حاصل ہے کہ جو دنیا کے مختلف ملکوں میں کام کرنے والی ریڈ کراس اور ہلال احمر جیسی رفاہی انجمنوں کو حاصل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ [کنیسٹ] کی ایتھوپیئن نژاد سیاہ فام خاتون رکن نینا ٹامانو شاٹا ایوان میں عطیہ خون کیمپ میں آئیں اور انہوں نے خون کا عطیہ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ کیمپ لگانے والی ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کی انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ انہیں 'اوپر' سے حکم ملا ہے کہ کسی ایتھوپئین نژاد یہودی سے خون کا عطیہ نہ لیا جائے۔ اس ڈائیلاگ کو وہاں پر موجود کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والے رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایتھوپیئن نژاد وہ یہودی جو اسرائیل میں پیدا نہیں ہوئے ان کے خون میں ایڈز سمیت مختلف بیماریوں کے جراثیم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسرائیلی رکن پارلیمان نینا ٹامانو شاٹا نے اس امتیازی سلوک پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پوری سیاہ فام قوم کے لئے توہین کا باعث ہے۔

نینا ٹامانو شاٹا نے مزید کہا کہ میری عمر 32 سال ہے۔ میں تین برس کی عمر میں اپنے یہودی والدین کے ہمراہ اسرائیل چلی آئی تھی۔ میرے دو بچے ہیں، نجانے کس بنا پر مجھ سے ایسا امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایتھوپیئن نژاد یہودیوں نے سولہ برس قبل مقبوضہ بیت المقدس میں ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا تھا کہ جب مقامی اخبارات میں اس بات کا بھانڈا پھوٹا کہ ہسپتالوں میں سیاہ فام افراد سے لیا جانے والا خون کا عطیہ بیمار جان کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ نینا ٹامانو شاٹا نے کہا کہ سولہ برس بعد تک اس ضمن میں کچھ نہیں بدلا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سینڑ رائٹ کی ترجمان اور حکومتی اتحاد میں شامل یش عتید جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ نینا ٹامانو شاٹا سے رابطہ کر کے ان سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ نیتن یاہو نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی خود تحقیقات کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران ایتھوپیا سے ایک لاکھ یہودی اسرائیل لا کر آباد کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تعداد 1984-1991 کے درمیان اسرائیل آئی۔ اسرائیل میں ایک لاکھ بیس ہزار ایتھوپیئن یہودی آباد ہیں جن میں سے اسی ہزار افریقا میں پیدا ہوئے اور انہیں مزعومہ یہودی ریاست میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں