.

سعودی مردوں کی سوشل میڈیا پر وقت گزاری سے خانگی زندگی متاثر

''وہ مجھے اپنے رویے سے ہر روز قتل کرتا ہے اور میری باتوں کو سننا گوارا نہیں کرتا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کے ذریعے مرد حضرات سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے ساتھ اس حد تک وابستہ ہوچکے ہیں کہ وہ اب اپنے خاندان کے حصے کا وقت بھی سوشل نیٹ ورکس کو دے رہے ہیں جس سے شادی شدہ مردوں کے لیے خاص طور پر خانگی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

مردوں کی سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اس حد تک دلچسپی پر ان کی بیویوں نے علانیہ اپنے غم وغصے کا اظہار شروع کردیا ہے اور ان میں سے بعض یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے خاوند اس طرح سوشل میڈیا پر دوسری عورتوں کے ساتھ دل لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب ایسے خاوندوں سے نالاں خواتین نے طلاقیں لینا شروع کر دی ہیں۔

سعودی روزنامے ریاض میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سواد محمد نامی خاتون نے بتایا کہ ان کا خاوند سوشل نیٹ ورکس کا نشے کی حد تک عادی ہوچکا ہے اور وہ یہ بھول ہی گیا ہے کہ اس کا کوئی خاندان بھی ہے۔

''میں اس مسئلے پر مسلسل ان سے لڑرہی ہوں۔وہ اپنے موبائل پر گھنٹوں سوشل نیٹ ورکس اور چیٹ رومز میں گفتگو میں گزار دیتے ہیں۔وہ مجھے اور بچوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ وہ موبائل فون پر سوشل نیٹ ورک کے اطلاقوں کو ختم کر دیں ،وہ ہمیشہ ایسا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا''۔

جذبات کا خون

اس خاتون نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ ''ان کے خاوند کے کسی اور عورت کے ساتھ آن لائن مراسم قائم ہیں۔اس شخص نے میرے جذبات کا خون کیا ہے۔ وہ مجھے وقت نہیں دیتا اور معاملات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اب خاوند اپنا زیادہ تروقت تنہا مجھ سے دور رہ کر گزارتا ہے''۔

سواد محمد نے بتایا کہ پہلے تو ان کا خاوند انھیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا لیکن اب اگر وہ گھر میں اکیلا ہو اور فون یا کمپیوٹر سے کھیل رہا ہو تو اس نے میرے گھر سے باہر جانے پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔

''وہ اتنا محتاط ہے کہ اس نے تمام ڈیوائسز اور اطلاقوں کو پاس ورڈ لگا دیا ہے تاکہ وہ پکڑا نہ جائے۔ وہ مجھے اپنے رویے کی وجہ سے ہر روز قتل کر رہا ہے۔ وہ میری باتوں کو بھی سننا گوارا نہیں کرتا۔ سب سے بدتر بات یہ ہوئی ہے کہ بچے اپنے باپ کی شفقت اور پیار سے محروم ہو رہے ہیں اور وہ ایک ہی کمرے میں ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں۔ اس نے بچوں کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ ہر وقت چیٹنگ اور ویڈیو دیکھنے میں مصروف ہوتا ہے''۔اس خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے مزید کہا۔

آن لائن مراسم

سوشل نیٹ پر گھنٹوں وقت گزارنے والے ایک اور سعودی خاوند کی بیوی مونا جابر نے اپنی داستان الم یوں بیان کی کہ ان کا میاں کمپیوٹر یا سوشل نیٹ ورکس کے سامنے اتنا زیادہ وقت گزار دیتا ہے کہ مجھے اس سے حسد ہونے لگتا ہے اور میری طرح کی بہت سی خواتین اپنے حسد کو چھپا نہیں سکتی ہیں کیونکہ انھیں شُبہ ہوتا ہے کہ ان کے خاوندوں کے آن لائن افیئر چل رہے ہیں۔

اس صورت حال میں بہت سی سعودی خواتین نے اپنے خاوندوں کی چوری چھپے جاسوسی بھی شروع کردی ہے اور وہ اپنے شک کو دور کرنے کے لیے یہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کے خاوند سوشل میڈیا پر کس سے اور کیا گفتگو کررہے ہیں لیکن بعض خاوند ان سے بھی زیادہ چالاک ثابت ہوئے ہیں اور جونہی بیوی ان کے کمروں میں قدم رکھتی ہے تو وہ قدموں کی چاپ سن کر ہی کمپیوٹر بند کردیتے ہیں تاکہ اگر وہ کوئی غلط کام کررہے ہوں تو ان کا پتا نہ چل سکے۔

لیکن مونا جابر کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں بیویوں کو خاوندوں کی جاسوسی پر موردالزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ اس بات کی تصدیق کرنا ان کا حق ہے کہ ان کے خاوند کے کسی غیر عورت کے ساتھ تعلقات تو نہیں۔تاہم بعض خاوند ایسے مواقع پر خود پر اعتماد میں اس طرح اضافہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے موبائل فون بیویوں کے حوالے کردیتے ہیں تا کہ وہ خود ہی ملاحظہ کرلیں کہ وہ کیا کررہے تھے۔

سامح الفیض ایک اور خاتون خانہ ہیں جو اس مسئلے سے متاثر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں لیکن ان کے خاندان پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنے خاوند کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جاسوسی کی تو ان پر یہ راز کھلا کہ ان کے خاوند صاحب تو دوسری عورتوں سے بھی دل لبھا رہے ہیں۔

طلاق

منال سالم نامی خاتون نے تو اپنے خاوند کی سوشل میڈیا کے ساتھ دل لبھانے کی عادت کی وجہ سے شادی ہی ختم کردی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''میں نے دیکھا کہ میرے خاوند نے سوشل نیٹ ورکس کا عادی ہونے کے بعد مجھ سے منہ موڑنا شروع کردیا ہے تو مجھے اس پر شک گزرا اور پھر میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے ہرمرتبہ معذرت کرکے ٹال دیا''۔

ایک دن جب وہ اپنا سیل فون گھر میں بھول گیا تو میں نے اس کو سرچ کیا تو مجھے پتا چلا کہ اس کے تو بہت سی خواتین کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ انھیں نظمیں اور محبت نامے بھیجتا رہا تھا لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ اس کی مجھ پر تنقید تھی۔اس کا کہنا تھا کہ میں ایک بری بیوی ہوں اور اس کا خیال نہیں رکھ سکتی۔ میرے لیے تو یہ حد سے گزرنے والی بات تھی اور پھر میں نے طلاق لے لی۔

الاحسا میں واقع فیملی ڈویلپمنٹ کے کنسلٹینٹ ڈاکٹر خالد الحلیبی کا کہنا ہے کہ ان دنوں کمپیوٹر کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے یا موبائل فون پر سوشل اطلاقات کے ساتھ وقت گزاری کی عادت سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''جب خاوند ان اطلاقات کے ساتھ مصروف ہوگا تو اس کی بیوی یقینی طور پر بوریت محسوس کرے گی،وہ شکی ہوگی اور اس کے دل میں حسد پیدا ہوگا۔خواتین فطری طور پر اپنے خاوند کی توجہ چاہتی ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے خاوندوں کی توجہ صرف انہی پر مرکوز ہو۔اگر انھیں توجہ نہیں ملے گی تو وہ بے خوابی کے عارضے میں مبتلا ہوسکتی ہیں ،اسی طرح سوشل نیٹ ورکنگ کے ساتھ گھنٹوں وقت گزارنے والے مرد حضرات کے بچے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔خاص طور پر ان کے کردار پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں''۔