برطانوی جامعات میں ''صنف پرستی'' پر نیا تنازعہ

وزیراعظم کیمرون نے طلبہ اور طالبات کو الگ الگ بٹھانے کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

برطانوی جامعات میں ان دنوں طلبہ اور طالبات کو عوامی تقریبات میں الگ الگ بٹھانے پر ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جامعات نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی مداخلت کے بعد صنفی تقسیم سے متعلق مجوزہ رہ نما اصولوں کی توثیق سے انکار کردیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے جمعہ کو پہلی مرتبہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے جامعات کو خبردار کیا تھا کہ عوامی تقریبات اور پروگراموں خاص طور مہمان مقرروں کے لیکچرز کے دوران طلبہ اور طالبات کو الگ الگ بٹھانے کا عمل بالکل ناقابل قبول ہے۔

انھوں نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اس معاملے میں بالکل واضح ہوں۔برطانوی جامعات میں مہمان مقررین کی آمد کے موقع پران کے سامعین کو جنس کی بنیاد پر الگ الگ نہیں بٹھایا جانا چاہیے۔یہ کوئی درست حکمت عملی نہیں ہے''۔

گذشتہ ماہ برطانیہ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے والی اتھارٹی''جامعات برطانیہ'' ( یونیورسٹیز یوکے) نے رہ نما اصول وضع کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ مسلم سوسائٹیوں سمیت آرتھوڈکس گروپوں کو عوامی تقریبات کے مواقع پر جنس کی بنیاد پر سامعین کو الگ الگ بٹھانے کی اجازت ہے۔

یو یوکے کی رپورٹ میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ اگر صنفی تقسیم حقیقی طور پر میزبانوں کے مذہبی عقیدے کی نمائندہ ہو تو پھر الگ الگ نشستیں لگائی جاسکتی ہیں لیکن اب سیاسی دباؤ کے بعد یو یو کے کے چیف ایگزیکٹو نیکولا ڈینڈریج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یونیورسٹیز برطانیہ عظمیٰ وزیراعظم کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہیں کہ جامعات کو مہمان مقرروں کی درخواست پر سامعین پر صنفی تقسیم کو نہیں تھوپنا چاہیے''۔

یو یو کے کے ترجمان آئن مورٹن نے اتوار کو العربیہ نیوز کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اپنے وکلاء اور ''مساوات اور انسانی حقوق کمیشن'' کے ساتھ مل کر اس کیس اسٹڈی کی قانونی پوزیشن کی وضاحت کے لیے کام کررہے ہیں''۔

برطانیہ میں جس کیس اسٹڈی سے یہ تمام بحث چھڑی ہے،وہ ای ایچ آر سی کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز میں شامل ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مساوات اور انسانی حقوق کمیشن نے وائس چانسلروں کے ادارے کی جانب سے صنفی تقسیم کو صنفی امتیاز کے خاتمے کے قوانین کی روشنی میں ناقابل اجازت قراردیا تھا۔

اس کیس اسٹڈی میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر مرد اور عورتیں برابر برابر بیٹھتے ہیں تو یہ صنفی تقسیم تو قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن اگر مردوں کو آگے اور عورتوں کو پیچھے بٹھایا جاتا ہے تو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی جامعہ لیسٹر میں اس سال اپریل میں اسلامی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ایک پروگرام منعقد کیا تھا۔اس کے شرکاء خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ نشستیں ترتیب دی گئی تھیں اور ہال کے دروازے پر بھائیوں ( مردوں) اور بہنوں (عورتوں) کے لیے الگ الگ داخلی راستے کی تیر سے نشاندہی کی گئی تھی۔اے 4 سائز کے کاغذ پر بنے تیر کے ان نشانوں کی سوشل میڈیا میں بہت تشہیر کی گئی تھی۔

لیسٹر یونیورسٹی نے بعد میں اس واقعہ کی تحقیقات شروع کردی تھی اور ساتھ ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ انتظامیہ اس بات سے آگاہ نہیں تھی کہ لوگوں کو الگ الگ بیٹھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف لیسٹر کی اسلامی سوسائٹی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ہمارے تمام لیکچرز عوام کے لیے اوپن ہیں،اسلامی کلاسیں بھائیوں اور بہنوں دونوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے الگ الگ ہی کلاسیں ہوں گی''۔

اب اس مسئلے کی بنیاد پر صنفی تقسیم اور آزادی رائے کے عنوان سے بحث مباحثہ جاری ہے۔بعض کالم نگاروں نے یو یو کے کے ابتدائی رہ نما اصول کو ''جنسی نسل پرستی'' سے تعبیر کیا ہے۔اخبار گارجیئن کے کالم نگار پولی ٹائن بی نے لکھا ہے کہ ''سیکولر جانبداری اعلیٰ تعلیم کا ستون ہے۔ہم اپنے اداروں میں عقیدوں والے گروپوں کے غار میں بند نہیں ہوسکتے۔خواہ اس کو حملہ ہی کیوں نہ تصور کیا جائے''۔

بعض دوسرے صحافیوں نے بھی برطانوی جامعات میں طلبہ اور طالبات کو الگ تھلگ بٹھانے کے عمل کو ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ ''بعض مذاہب کی جنسی خاصیت کو خواتین کے حقوق پر ترجیح دی جارہی ہے''۔

لیکن یو یو کے ترجمان مورٹن کا کہنا ہے کہ ''ان کی گائِڈینس جنسی علاحدگی کے لیے نہیں تھی بلکہ اس میں تعلیمی اداروں کے لیے باہر سے مقررین کو کیمپس کے حدود میں بلانے سے متعلق رہ نما اصول دیے گئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ اس ضمن میں آزادیٔ تقریر اور قانون کی پاسداری کی جائے''۔

بعض برطانوی مسلمانوں نے بھی صنفی بنیاد پر تقسیم کی مخالفت کی ہے۔دی انڈی پینڈینٹ کی کالم نگار مریم فرانکوئس جراح نے لکھا ہے کہ ''میں مسلمان کی حیثیت سے جامعات میں صنفی تقسیم کی مخالف ہوں لیکن اس کے مؤیدین کو اپنی رائے رکھنے کا ہر حق حاصل ہے''۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''مردوں اور عورتوں کو الگ الگ بٹھایا جانا دراصل سعودی طرز کا نظام ہے جس میں مرد اور عورتیں کم ہی معاشرتی سطح پر باہمی تعامل کرسکتے ہیں۔اس سے خواتین کی بے اختیاری کی راہ ہموار ہوتی ہے اور وہ مردوں کی دنیا میں محدود کردار کی حامل ہوکر رہ جاتی ہیں۔یہ قابل قبول ہے اور نہ یہ اسلامی ہے''۔

لیکن خود سعودی عرب میں ایسی جامعات ہیں جن میں طلبہ وطالبات کی الگ الگ تخصیصی نشستیں نہیں ہوتی ہیں۔جیسا کہ شاہ سعود میڈیکل اسکول اور جامعہ الفیصل ہے۔ان دونوں اداروں میں دونوں جنسوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ وطالبات کی مل کر پڑھنے اور کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔وہ ایک دوسرے سے ابلاغ کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں