.

امریکی محققین کا اسرائیل کے بائیکاٹ کے حق میں ووٹ

عالمی یہود کانگریس نے امریکی تنظیم کی قرارداد کو اخلاقی دیوالیہ پن قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پانچ ہزار سے زیادہ امریکی اساتذہ اور محققین کی ایک تنظیم نے کثرت رائے سے اسرائیل کے بائیکاٹ کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ عالمی یہود کانگریس نے اس تحریک کو اخلاقی دیوالیہ پن قراردے کر اس کی مذمت کردی ہے۔

امریکن اسٹڈیز ایسوسی ایشن (اے ایس اے) کے ارکان نے دوتہائی اکثریت سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی توثیق کی ہے۔یہ تنظیم امریکی ثقافت اور تاریخ کی تحقیقات ومطالعات کے لیے کام کررہی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں مختلف تنظیمیں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر گذشتہ چھیالیس سے جاری قبضے کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اور اس کے تعلیمی اور ثقافتی سطح پر بائیکاٹ کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکا کی کسی اکیڈیمک تنظیم نے اسرائیلی جامعات کے بائیکاٹ کے لیے ووٹ دیا ہے۔ایشیائی امریکی مطالعات کی تنظیم نے اپریل میں اسرائیل کے بائیکاٹ کی توثیق کی تھی۔

اے ایس اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''قرارداد تدریسی آزادی سے محروم کیے جانے والے اسکالروں اور طلبہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے منظور کی گئی ہے اور تنظیم یہ چاہتی ہے کہ ایسی آزادی فلسطینیوں سمیت سب لوگوں کو حاصل ہونی چاہیے''۔

اخلاقی دیوالیہ پن

لیکن ورلڈ جیوش کانگریس کے صدر رونالڈ لوڈر نے یہ کہہ کر اس قرارداد کی مخالفت کردی ہے کہ یہ امریکن اسٹڈیز ایسوسی ایشن کے اخلاقی دیوالیہ پن اور یہود مخالف جذبات کا اظہار ہے۔

انھوں نے اس قرارداد کو مشرق وسطیٰ کے تناظر میں غیر منصفانہ اور متعصبانہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ امریکن اسٹڈیز ایسوسی ایشن نے صرف صہیونی ریاست ہی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے حالانکہ وہ امریکی اقدار کو شیئر کرتی ہے لیکن کوئی بات نہیں کیونکہ بہت سے امریکی اس اکیڈیمی کو متعصبانہ اور حقائق سے ناآشنا قراردے کر مسترد کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی جامعات کے پروفیسروں کی تنظیم نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی مخالفت کی ہے۔اس تنظیم کے اراکین کی تعداد اڑتالیس ہزار ہے۔واضح رہے کہ عالمی یہود کانگریس دنیا بھر کے ایک سو سے زیادہ ممالک میں رہنے والے یہودیوں کی نمائندہ ہے۔

امریکی اسٹڈیز ایسوسی ایشن امریکی ثقافت اور تاریخ کے بین الکلیاتی مطالعات کے لیے وقف ہے اور یہ سب سے بڑی اور قدیم تنظیم ہے۔اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے اراکین کی تعداد پانچ ہزار ہے اور بائیس سو زیادہ لائبریریاں اور ادارے اس کے چندہ دہندگان ہیں۔

یادرہے کہ جون 2013ء میں معروف برطانوی ماہر طبیعات اسٹیفن ہاکنگ نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی میزبانی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔انھوں نے یہ فیصلہ اسرائیل کے اکیڈیمک بائیکاٹ کے پیش نظر کیا تھا۔