فلسطینیوں پر چلایا گیا اسرائیلی اسلحہ فن پاروں میں تبدیل

فنون لطیفہ اور مزاحمت کی ہم آہنگی کے مظاہر کی منفرد نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی نے فلسطینیوں کے فنون وادب کو ایک خاص سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیلی مظالم پر فلسطین میں سال ہا سال سے فلمیں بنتی آ رہی ہیں لیکن پہلی مرتبہ فنون لطیفہ میں دلچسپی رکھنے والے کارکنوں نے"فن اور مزاحمت" کو یکجا کرکے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔

سماجی کارکنوں نے اسرائیلی فوج کا استعمال شدہ اسلحہ، مظاہرین کومنتشرکرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے آنسو گیس شیل، چلی ہوئی گولیوں کے خول، دیوار فاصل کی تعمیرمیں استعمال ہونے والے سامان اور خاردار تاروں کو جوڑ کر خوبصورت فن پارے ترتیب دیے ہیں۔ جنہیں مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں ایک نمائش میں پیش کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رام اللہ میں "چیک، فن پارے اور مزاحمت" کےعنوان سے لگائی گئی نمائش میں اسرائیلی فوج کے ہاں فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والی اشیاء کے سہ جہتی فن پارے پیش کیے گئے۔

سماجی کارکنوں کے اس منفرد اقدام کا مقصد فلسطینیوں کے قتل عام اوران کے خلاف مختلف ہتھکنڈوں میں استعمال ہونے والے سامان کی تشہیر کرنا اورعالمی برادری کومظلوم فلسطینی عوام کا پیغام پہنچانا ہے۔ سماجی کارکنوں نےان منفرد فن پاروں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف مظالم میں قابض فوج کیا کیا مہلک اشیاء استعمال کر رہی ہے۔

فن پاروں کے خاکے ڈیزائن کرنے والے ایک سماجی کارکن محمد الخطیب کا کہنا ہے کہ "ہم نے فن اور مزاحمت" کوان پاروں کے ذریعے یکجا کردیا ہے۔ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنانے کے لیے قابض فوج کس قسم کی اشیاء استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطینی بقائے باہمی کے اصول کے تحت مگر آزاد ماحول میں زندگی گذارنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں روزمرہ کی بنیاد پر ایسے پر خطر حالات کا سامنا ہے جس میں ایسے مہلک ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تخلیقی صلاحیتیں بھی موجود ہیں لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا واسطہ اس نوعیت کی مہلک اشیاء سے ہوتا ہے۔

ایک اور سماجی کارکن سامی موسیٰ نے بتایا کہ ہم نے اسرائیلی فوج کی خاردارتاروں، دیوار فاصل کے اجزاء، مظاہرین کو منتشر کرنے والے اسلحے کی باقیات، صحافیوں کی مظاہروں کی کوریج کے لیے استعمال ہونے والے آلات کی باقیات کو جوڑ کر چھوٹے چھوٹے تھری ڈئمنشن فن پارے تیار کیے ہیں۔ نمائش میں شریک ہر شخص نے ہماری اس منفرد کاوش کی تحسین کی ہے۔

خیال رہے کہ فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے پینسٹھ برسوں میں اب تک فن، ادب، موسیقی اوردیگرسماجی سرگرمیوں میں بھی اسرائیلی ریاستی مظالم کا برملا اظہار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں