.

"70 ملکوں کے 11 ہزار جنگجو اسد رجیم کے خلاف بر سر جنگ ہیں"

شام میں حکومت مخالف غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد دگنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے ایک تھینک ٹینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں بشار الاسد رجیم کے خلاف جنگ میں 70 ممالک کے کم سے 11 ہزار جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری بغاوت کی تحریک میں اب غیر ملکی باغیوں کی تعداد دوگنا ہوچکی ہے۔

لندن کے "کنگز کالج" کے زیرانتظام انٹرنیشنل اسٹڈی سینٹر برائے قدامت پسندی کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حامی فوج اور ملیشیا کےخلاف لڑنے والے غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد دوگنا ہو چکی ہے۔ غیر ملکی جنگجو شام سے متصل ممالک کی سرحدوں سے داخل ہوتے اور بشارالاسد رجیم کےخلاف حملوں میں حصہ لیتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت شام کے محاذ جنگ میں ستر ملکوں کے کم سے کم گیارہ ہزار جنگجو شامل ہیں۔

شام میں برسرجنگ غیرملکیوں میں سب سے زیادہ تعداد عرب اور یورپی ممالک کے جنگجوؤں پرمشتمل ہے۔ اسی فی صد غیرملکی جنگجوؤں کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا، شمالی امریکا، افریقا، بلقان اورسابق سویت یونین سے ہے۔ ان کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں اردن، تیونس، لیبیا، سعودی عرب اور لبنان کے جنجگو سب سے زیادہ ہیں۔

مغربی یورپ سے شام میں لڑنے والے جنگجوؤں کی تعداد میں گذشتہ تین سال میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ تعداد اب 1900 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں بیشتر فرانس، برطانیہ اور بیلجیم سے تعلق رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد کے دیگرمحرکات میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی بشارالاسد کی حمایت میں شمولیت بھی بتائی جاتی ہے۔ حزب اللہ کی شامی جنگ میں شمولیت اور بشارالاسد کی حمایت کے نتیجے میں القاعدہ کی ذیلی تنظیموں النصرہ فرنٹ اور دولت شام وعراق جیسے گروپوں کو بھی شام میں کودنے کا موقع ملا ہے۔