.

بکرعطیانی کے لئے اقوام متحدہ کا خراج تحسین

نیویارک میں ہونے والی تقریب میں 'العربیہ' بیورو چیف کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے فلپائن میں اٹھارہ ماہ کی طویل اور صبر آزما قید سے رہائی پانے والے العربیہ کے سینئر صحافی بکر عطیانی کی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔

صحافیوں کی غیر معمولی خدمات کے سلسلے میں نیویارک میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں عالمی ادارے کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی سخت مذمت کی گئی۔ تقریب میں اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف ایسی پرتشدد کارروائیاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے آزادانہ طور پر فرائض کی انجام دہی کے لئے بڑا چیلنج ہیں۔ ایسی صورتحال کے باعث عوام کو مختلف عالمی موضوعات کے بارے میں درست اور غیر جانبدار معلومات تک رسائی نہیں ہو پاتی۔

اقوام متحدہ میں ہونے والی اس تقریب میں العربیہ کے نیویارک میں بیورو چیف طلال الحاج نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے تقریب میں بکر عطیانی کے دوران اسیری تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا اور بتایا کہ سن 2013 دنیا بھر کے صحافیوں کے لئے کس قدر مشکل رہا۔

الحاج نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے معاصران عزیز ختم ہوتا ہوا سال دو ہزار تیرہ صحافیوں کے لئے عمومی طور پر اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے صحافیوں کی عالمی تنظیم 'رپورٹرز ود آوٹ باڈرز' کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اس سال گذشتہ برس کی نسبت ستر فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سال 71 صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں جان سے گئے۔

طلال الحاج نے پروگرام میں نوے سیکنڈ پر مشتمل ایک مختصر فلم بھی نمائش کے لئے پیش کی جس میں بکر عطیانی کی جون دو ہزار بارہ میں انتہا پسند اسلامی گروپ ابو سیاف کے ہاتھوں اغوا اور رہائی کے بعد کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ متخصر دورانیے کا ویڈیو کلپ دراصل اقوام متحدہ میں نامہ نگاروں کی انجمن کے اظہار یکجہتی کے لئے ایک خراج ہے کہ جو UNCA نے دوسری انجمنوں کے ساتھ ملکر بکر عطیانی کی رہائی کے لئے وقتا فوقتا کیا جاتا رہا کیونکہ ان کوششوں کے بغیر عطیانی کی رہائی ممکن نہ تھی۔

طلال الحاج نے مزید کہا کہ نوے سیکنڈ کی یہ فلم ان صحافیوں کے لئے ایک خراج ہے کہ جو عوام تک درست خبروں کی رسائی کے لئے بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔

واضح رہے بکر مشرق وسطی کے ایک نامور ٹی وی جرنلسٹ ہیں۔ وہ نائن الیون سے پہلے اسامہ بن لادن کا انٹر ویو بھی کر چکے ہیں۔ وہ جنوبی فلپائن کے مسلمانوں کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم کی تیاری کیلیے 5 جون 2012 کو پہنچے تھے۔ لیکن سات دن بعد انہیں اغوا کر لیا گیا۔