.

تیونس: گلوکار ولد ایل 15 پولیس کی توہین کے مقدمے میں جیل سے رہا

اپیل عدالت نے چار ماہ جیل کی سزا کالعدم قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی ایک عدالت نے گلوکار علاء یعقوبی المعروف ولد ایل 15 کو پولیس کی توہین کے الزام میں سنائی گئی سزا ان کی اپیل پر کالعدم قرار دے دی ہے اور انھیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان کے وکیل غازی مرابط نے بتایا ہے کہ جرمبالیہ کی عدالت نے ولد ایل 15 کو بری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انھیں آج جیل سے رہا کردیا جائے گا۔ان کے موکل 5دسمبر سے دارالحکومت تیونس کے نواح میں واقع لا مرنجیا جیل میں قید ہیں۔

تیونس کی ایک عدالت نے دسمبر کے اوائل میں اس نوجوان گلوکار کو اپنے گانوں میں پولیس کی توہین کے الزام میں قصوروار قرار دے کر چار ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور انھیں سیدھا جیل میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے انھیں غیر شائستہ کردار، نقض امن عامہ اور سرکاری ملازمین کے خلاف توہین آمیز گانا گانے کے الزام میں قصوروار دیا تھا۔

اس نوجوان گلوکار کے وکیل غازی مرابط نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ان کے مؤکل کو جیل میں نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔اب ان کی اپیل پر جمعرات کو عدالت نے ولد ایل کو بری کرکے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ولد اور ان کے ساتھی گلوکار کلے بی بی جے کے خلاف تیونس کے مشرق میں واقع قصبے حمامت میں ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔اس سے پہلے اگست میں ان کے خلاف اسی الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور ولد کو ان کی عدم حاضری میں اکیس ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کردی تھی جس پر ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے نے جیل کی سزا اکیس ماہ سے کم کر کے چار ماہ کر دی تھی۔

کلے بی بی جے کے خلاف اس کے بعد دومرتبہ اس مقدمے کی سماعت ہوچکی ہے اور انھیں عدالت نے اکتوبر میں بری کر دیا تھا۔

ان دونوں گلوکاروں کے خلاف حمامت میں ایک کنسرٹ کے دوران اکٹھے فن کا مظاہرہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔اس کنسرٹ میں گائے گئے گانوں میں انھوں نے مبینہ طور پر تیونسی پولیس کا مضحکہ اڑایا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے پولیس کو کتے قرار دیا تھا لیکن ولد ایل نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کے بعد منعقدہ پہلے عام انتخابات کے نتیجےمیں اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی۔اب اس کے دور میں عرب دنیا کے سب سے زیادہ روشن خیال سمجھے جانے والے ملک میں آزاد روش کا مظاہرہ کرنے والے موسیقاروں اور صحافیوں کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایسے مقدمات کی مذمت کی ہے اور انھیں جمہوری آزادیوں کے منافی قرار دیا ہے۔