.

"موساد" کا ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ ہیرا پھیری کا انکشاف

سابق ایرانی عہدیدار کا 'العربیہ' کے نام مراسلے میں اہم انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور اسرائیل کے درمیان مخاصمت نے دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے مابین سراغ رسانی کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس محاذ پر ایرانی خفیہ اداروں کو اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی"موساد" کے ہاتھوں شکست کا سامنا بھی رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں اسرائیلی "موساد" ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ ہیرا پھیری، انہیں بے وقوف بنانے اور ان کی توجہ حساس معاملات سے ہٹا کرغیر ضروری مسائل میں الجھانے کی سازش کرتی رہی ہے۔ جس میں "موساد" کو اپنے مشن میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔

ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ موساد کی "ہیرا پھیری" کی تفصیلات پر مبنی ایک خفیہ مراسلہ "العربیہ" کے ہاتھ لگا ہے۔ یہ مراسلہ سابق ایرانی صدرمحمود احمدی نژاد کی حکومت میں وزیر برائے قومی سلامتی کے معاون خصوصی ڈاکٹر شاہین داد خواہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ بعد ازاں شاہین داد خواہ بھی ریاست کے راز افشاء کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ابھی تک تہران کے قریب "ایفین" جیل میں قید ہیں۔ ڈاکٹر داد خواہ ایران کے سابق مذاکراتی وفد میں بھی شامل رہے ہیں۔

اس مراسلے میں شاہین داد خواہ لکھتے ہیں "کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد جب ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے توامن وامان کو یقینی بنانے کے لیے صدر مملکت احمدی نژاد نے حیدر مصلحی اور داخلی سلامتی سے متعلق خفیہ ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر رضوی پر مشتمل ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا۔ اس گروپ نے انٹیلی حکام کی مدد سے اپوزیشن رہ نماؤں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر سفاکانہ تشدد کا سلسلہ شروع کردیا۔ ردعمل میں خود داد خواہ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے اس نئے سلسلے نے سنہ 1998ء ایرانی دانشورں کے قتل عام اور ان پر مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

سنہ 2009ء میں صدر احمدی نژاد نے مظاہرین کی اندھا دھند گرفتاریوں اور احتجاجی جلسوں کو کچلنے میں مدد کرنے کے بعد "رضوی" کو وزارت داخلہ سے انٹیلی جنس کے شعبے میں بھیج دیا جہاں سے رضوی اور موساد کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا۔

موساد نے ایرانیوں کی کمزوری بھانپ لی


مسٹر رضوی کو جب وزارت داخلہ سے انٹیلی جنس کے شعبے میں منتقل کیا گیا تو اسرائیلی خفیہ ایجنسی"موساد" نے تہران کی کمزوری بھانپ لی۔ موساد کی خفیہ معلومات کے مطابق رضوی ایک ایسا شخص تھا جسے با آسانی کسی بھی فریب دیا جا سکتا تھا چنانچہ موساد نے یہاں سے تہران کے ساتھ اپنے داؤ پیچ استعمال کرنا شروع کر دیے۔

یوں موساد نے ایرانی انٹیلی جنس کو جوہری پروگرام اور سائنسدانوں کے قتل جیسے غیر اہم اور فروعی نوعیت کے مسائل میں الجھا دیا اور ان کی توجہ اسرائیل کے اصل جاسوسوں سے ہٹا دی گئی۔

ڈاکٹر شاہین داد خواہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ترکی میں موجود بے روزگار کئی ایرانیوں کو اپنی 'جعلی' خفیہ سرگرمیوں کے لیے بھرتی کرایا۔ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کو بھاری رقوم فراہم کیں تاکہ وہ جعلی جاسوسوں کو کچھ عرصہ کے لیے خوش رکھ سکیں۔

بعد ازاں ایک پیچیدہ طریقے سے ایرانی وزارت برائے سراغ رسانی کے ذریعے ان جاسوسوں کے راز افشاء کر دیے۔ یہ لوگ جب وطن واپس لوٹنے لگے تو حکام نے انہیں گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی۔ ایرانی انٹیلی جنس کی یہی کمزوری کافی تھی کہ جو وہ جعلی جاسوسوں کو اصلی سمجھ کران سے تفتیش کیے جا رہی تھی۔

گو کہ انٹیلی جنس چیف رضوی ان اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کو "غیر معمولی" کامیابی قرار دے رہے تھے لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ موساد نے انہیں کس طرح اپنے جال میں جکڑ لیا ہے۔ ان جعلی جاسوسوں میں ایک اصلی ایجنٹ بھی تھا جوایٹمی سائنس دان "علی محمدی" کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ تہران نےاس کی تلاش شروع کی مگرموساد نے اسے خفیہ راستے سے ایران سے نکال لیا تھا۔

ان جعلی ایجنٹوں میں "مجید جمالی فشی" کا نام بھی شامل تھا جسے تہران میں حراست کے دوران انقلاب عدالت کے ذریعے موت کی سزا سنائی گئی۔ جب اسے پھانسی گھاٹ کی جانب لے جایا جا رہا تھا کہ تو وہ بلند آواز میں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ "مجھے اغواء کیا گیا ہے، میں بے گناہ ہوں پھانسی کی سزا کا مستحق نہیں ہوں"۔

ناکامی کے بعد رضوی کی انتقامی کارروائی

شاہین داد خواہ مزید لکھتے ہیں کہ "جب ایرانی انٹیلی جنس چیف رضوی کوعلم ہوا کہ موساد نےاسے 'ٹریپ' کر لیا ہے تو اس نے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ انتقامی کارروائی کے طور پر تھائی لینڈ میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملے کی ناکام کوشش کی گئی۔ ایک حملہ آور سعید مدنی اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم اور دوسرے محمد خزاعی کو جیل جانا پڑا تھا۔

اسی انتقامی پالیسی کے تحت آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اسرائیلی سفارت خانے پر ناکام حملہ کیا گیا۔ باکو پولیس نے بہرام فیضی نامی حملہ آورکوحراست میں لے لیا۔

رضوی نے تھائی لینڈ، آذر بائیجان اور جارجیا سمیت مخلتف دوسرے ملکوں میں بھی اسرائیلی مفادات پرحملوں کی ناکام کارروائیاں کرائیں مگر وہ تمام بے سود ثابت ہوئیں۔ بیرون ملک ان کاررائیوں کا الٹا اثر یہ ہوا کہ جن ملکوں کی سرزمین اسرائیل کےخلاف استعمال کی گئی تھی ان کے تہران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اس طرح "موساد" ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنے فریب میں الجھائے رکھنے میں کامیاب رہی۔