.

فرانسیسی صدر اولاند کی الجزائرمخالف طنزیہ بیان پر معذرت

الجزائری وزیرخارجہ کا طنزیہ بیان کی فرانسیسی وضاحت پر اظہارِ اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند الجزائر کے ساتھ ایک لطیفہ نما تبصرے پر پیدا ہونے والے سفارتی تنازعے کو فرو کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے الجزائر کے بارے میں یہ لطیفہ تراشا تھا کہ یہ ملک غیر محفوظ ہے۔

اس لطیفے پر الجزائری وزیرخارجہ رامتین لمامرا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے قابل افسوس قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سال کا اختتام ایک ''برے نوٹ'' کے ساتھ ہورہا ہے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر نے اتوار کو بیان کی وضاحت میں کہا ہے کہ ''ہر کوئی جانتا ہے فرانسو اولاند الجزائر کے بارے میں دوستانہ جذبات اور اس کے عوام کے لیے گہرا احترام رکھتے ہیں''۔

انھوں نے اپنے بیان کی تعبیروتشریح پر مخلصانہ طور پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے اس معاملے پر معذرت کا اظہار کریں گے۔الجزائری وزیرخارجہ نے بعد میں اس بیان کے ردعمل میں کہا کہ ان کا ملک اس وضاحت سے ''مطمئن'' ہے۔

فرانسو اولاند نے گذشتہ ہفتے فرانس میں یہودیوں کی نمائندہ کونسل کے ایک اجتماع میں مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ ''وزیرداخلہ مینوئل والس الجزائر کے دورے سے محفوظ اور بہتر حالت میں لوٹ آئے ہیں اور یہ بہت کچھ ہے''۔

فرانسیسی صدر کے اس بیان پر الجزائر کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور الجزائری اخبارات نے اس کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا تھا۔وزیرخارجہ لمامرا نے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کا بیان کردہ لطیفہ ہمارے تعلقات اور فرانسیسی وفد نے الجزائر میں سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے جو کچھ دیکھا،اس کی عکاسی نہیں کرتا۔

فرانسو اولاند کو رائے عامہ کے جائزوں میں جدید تاریخ کا سب سے غیر مقبول لیڈر قراردیا گیا ہے۔انھیں الجزائر کے خلاف تفنن طبع کے لیے غیر سنجیدہ بیان پر اندرون ملک بھی تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے اور حزب اختلاف کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات صدر فرانس کے منصب سے لگا نہیں کھاتے۔

واضح رہے کہ فرانس اور الجزائر کے درمیان اس وقت قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں لیکن دونوں ممالک کی تاریخ بڑی تلخ ہے۔فرانس نے الجزائر کو اپنی کالونی بنا لیا تھا اور پندرہ لاکھ الجزائریوں نے 1954ء سے 1962ء تک فرانس سے آزادی کے لیے لڑی گئی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے۔فرانس کے استعماری فوجیوں نے الجزائریوں پر بہت مظالم ڈھائے تھے۔ان کی خونیں کارروائیاں اور الجزائریوں سے انسانیت سوز سلوک اب تاریخ کا حصہ ہیں۔