شاہ عبداللہ کی سفارش پر پاکستانی نژاد قاتل کی سزا معاف

خادم الحرمین کی انسانیت سے محبت نے 100 افراد کی زندگیاں بچائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کی سفارش پر مصر کے ایک خاندان نے اپنے بیٹے کے قاتل پاکستانی نژاد سعودی شہری کی قصاص کی سزا معاف کر دی۔

مقتول کے شرعی وکیل ولید الطارقی نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے موکل خاندان نے اللہ کی رضاء کے لیے سعودی شہری کو قتل کے جرم میں معاف کرتے ہوئے قصاص نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شاہ عبداللہ کی سفارش پر رضاکارانہ طور پر کیا گیا ہے جس میں مقتول کے ورثاء پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے۔

درایں اثناء شاہ عبداللہ کی جانب سے عفو عام کے لیے قائم کمیٹی کے رکن ضاری بن مشعان الجربا کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ ایک انسان دوست اور انسانیت کا درد رکھنے والے سربراہ مملکت ہیں۔ ان کی سفارش سے اندرون بیرون ملک ایک سو سعودی شہریوں کی زندگیاں بچائی گئی ہیں۔

االعربیہ" ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ کی سفارش کے بعد کسی بڑے بڑے مجرم کو معاف کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ شاہ عبداللہ کی سفارش صرف سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ وہ اللہ کی رضاء کے لیے دوسرے ملکوں کے باشندوں کو بھی معاف کرانے کی سفارش کرتے رہے ہیں۔ ان میں مصر، پاکستان اور سوڈان جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

الجربا نے بتایا کہ شاہ عبداللہ نے ہمیں مصر جا کر مقتول کے ورثاء سے ملنے اور ان تک خادم الحرمین الشریفین کا سفارشی پیغام پہنچانے کی ہدایت کی۔ اس پر ہم قاہرہ میں مقتول کے ورثاء سے ملے اور شاہ عبداللہ کی سفارش ان کے سامنے رکھی۔ مصری خاندان نے اپنے بیٹے کے پاکستانی نژاد قاتل کو شاہ عبداللہ کی سفارش پر معاف کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں