.

اسرائیلی اداکار بھی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کیخلاف ہو گئے

یہودی بستیاں بنانے کی پالیسی کو اگلنا بھی مشکل، نگلنا بھی مشکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کو مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنے کیخلاف عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اپنے ہاں عوامی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہودی اداکاروں نے بھی ایسے علاقوں اور تھیٹرز میں پر فارم کرنے سے انکار کرنا شروع کر دیا جو جبری طور پر قائم یہودی بستیوں میں ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ اسرائیلی اداکاروں کی مشہورسہ رکنی ٹیم کی طرف سے انکار کی صورت سامنے آیا ہے۔ ان یہودی اداکاروں میں سے ایک اداکارہ سارت وینو ایلاد نے مقبوضہ علاقوں میں قائم یہودی بستیوں میں اداکاری کے جوہر دکھانے سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ '' میں کسی ایسے تھیٹر میں اداکاری نہیں کر سکتی جو مقبوضہ جگہ پر بنایا گیا ہو کیونکہ ایسی بستیاں فلسطینیوں کے ساتھ امن میں رکاوٹ ہیں۔''

خاتون اداکارہ نے کہا یہ اداکاری کا بائیکاٹ نہیں ہے بلکہ میرا ان ناجائز بستیوں کے بارے اسرائیلی پالیسیوں کیخلاف احتجاج ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس تھیٹر میں اداکاری کروں تو پہلے مسئلے کو حل کریں۔''

دوسری جانب اسرائیل یہودی بستیوں کے نت نئے منصوبے سامنے لاتا رہتا ہے اور اس امر کی پروا کرنے کو تیار نہیں ہے کہ اس کا امن مذاکرات پر کیا اثر مرتب ہوگا۔ تازہ ترین اسرائیلی خواہش یہ سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کی آزادی کی صورت میں بھی اس کی فوج فلسطین کے اردن بارڈر کے ساتھ موجود رہے گی۔

اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی کے خلاف یورپی ممالک بھی کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔ حتی کہ اسرائیل کے اس رویے کے باعث ایک امریکی تھنک ٹینک '' امریکن سٹڈیز ایسوسی ایشن '' سے وابستہ دانشوروں نے اس تجویز کی تائید کی ہے کہ اسرائیلی جامعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

جرمنی کی پانی سپلائی کرنے والی کمپنی نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے منصوبے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی نیشنل واٹر کیرئیر کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی یونین ان اشیاء کے بائیکاٹ پر غور کر رہی ہے جو مغربی کنارے میں اسرائیلی کارخانوں نے بنائی ہوں۔ خود اسرائیل کے اندر یہودیوں بستیوں کے منصوبوں کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

فلسطینیوں کا موقف ہے کہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، اور مشرقی بیت المقدس سمیت وہ تمام علاقے واگذار ہوں جو 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قبضے میں لیے ہیں۔ واضح رہے 1967 کے مقبوضہ علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ یہودی بسائے گئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر ثقافت لیمور لیوناٹ نے اسرئیلی اداکاروں میں اس رجحان پر تنقید کی ہے کہ وہ یہودی بستیوں کے خلاف ہو رہے ہیں اور وہاں پرفارم کرنے سے انکاری ہیں۔