.

ترکی کے کرپشن اسکینڈل میں ایرانی تاجر کا مرکزی کردار!

ایران کی مالی مدد کے لیے 10 ارب ڈالر کا سونا تہران بھجوایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اسلام پسند وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی کابینہ میں شامل تین وزراء کے بدعنوانی کے الزامات کے بعد استعفوں نے کرپشن کہانی کے کئی اور پہلوؤں بھی بے نقاب کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس سے یہ پتہ چلا ہے کہ ترک وزراء کی مبینہ کرپشن کے پس پردہ ایسے ایرانیوں کا ہاتھ تھا جو ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے رقوم اور سونے کی بھاری مقدار تہران منتقل کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزیر اقتصادیات، داخلہ اور وزیر برائے ماحولیات نے استعفے دے دیے ہیں لیکن ساتھ ہی ایردوآن کو اپنے قریب ترین حلیف فتح اللہ گولن کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ مذہبی رہ نما کے طور پر معروف فتح اللہ گولن اگر براہ راست اس اسکینڈل میں ملوث نہیں تب بھی ان پر ایران کی بالواسطہ طو پر مدد کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

ترک پولیس نے کرپشن اسکینڈل میں جن اہم شخصیات کو حراست میں لیا ہے ان میں سرکاری بنک "خلق" کے چیئرمین سلیمان اصلان اور ایک ایرانی تاجر رضا ضراب بھی شامل ہیں۔ رضا ضراب نے ایک ترک پاپ گلوکارہ سے شادی بھی کر رکھی ہے۔ یوں ترکی اس کا سسرالی ملک بھی کہلاتا ہے۔ تاجر پیشہ رضا ضراب کئی سال سے ترکی میں مقیم ہے۔ جب سے مغرب نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے باعث تہران کو اقتصادی پابندیوں میں جکڑنے کی کوشش کی ہے رضا ضراب اور اس کے ساتھی ان پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے بھاری مقدار میں بیرون ملک سے زر مبادلہ ایران کو بھجواتے رہے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کے دوران انہوں نے 10 ارب ڈالر کا سونا ایران منتقل کیا۔

ترک حکومت کے ایک باوثوق ذرائع نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ کرپشن اسکینڈل بے نقاب کرنے میں فتح اللہ [گولن] کا کلیدی کردار ہے۔ پہلے تو انہوں نے ایران کی خفیہ طریقے سے کی جانے والی مدد کو صیغہ راز میں رکھا لیکن بالآخر خود ہی اس کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انقرہ کے سرکاری بنک "خلق" کے چیئرمین سلیمان اصلان کا تہران کی خفیہ ذرائع سےمالی مدد میں اہم کردار رہا ہے۔

ترک صحافی فہیم تاشکین نے اخبار" مانیٹر" میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ خلق بنک کی جانب سے ایران کی اقتصادی مدد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ جب سے ایران پراس کے جوہری پرگرام کے باعث پابندیاں لگیں تو خلق بنک کے چیئرمین سلیمان اصلان نے مختلف ذرائع سے زرمبادلہ ایران کو منتقل کرنے کوششیں شروع کردی تھیں۔ اس سلسلے میں فتح اللہ گولن کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترک حکومت کو بتایا ہے کہ کرپشن اسکینڈل منظرعام پر لانے میں امریکا اور اسرائیل ملوث ہیں۔

ترکی کے"خلق" بنک کے زیر حراست چیئرمین سلیمان اصلان کےخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان پرالزام ہے کہ وہ جوتوں کی پیٹیوں میں ڈالر بھرکرایران بھیجنا چاہتے تھے۔ ان کے گھر سے جوتوں کی پیٹیوں میں 4.5 ملین ڈالر کی نقد رقم بھی ملی ہے جسے مبینہ طورپر ایران بھجوایا جانا تھا۔

صحافی فہیم تاشکین کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی وزارت خزانہ کے معاون برائے انسداد جرائم ڈیوڈ کوھین ترکی کےدورے پرآئے۔ انہوں نے ترک حکومت سے شکایت کی کہ آپ کا خلق بنک ایران پرعائد اقتصادی پابدنیوں کی سنگین خلاف وریوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلق بنک کی جانب سے تہران کی مدد جاری رہتی ہے تو انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں.

بوگس غیر ملکی کمپنیوں کا استعمال

ترک میڈیا نے کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبربھی دی ہے کہ ایران کو رقوم منتقل کرنے کے لیے جعلی غیرملکی کمپنیوں کے ناموں سے رجسٹریشن کی جاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں چین کی کئی جعلی کمپنیوں کے نام لیے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا رہا ہے تاکہ براہ راست الزام ترک اداروں پر نہ آئے بلکہ عالمی تنقید کا رخ ترکی کے بجائے چین کی جانب مڑ جائے۔

پولیس کو کرپشن سے متعلق جو شواہد ملے ہیں ان میں چینی فرموں کو ایران کی جانب سے مختلف اشیاء کی خریداری کے آڈر بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ان جعلی فرموں کے ذریعے ان آرڈر کے عوض تہران کو قیمتی اشیاء فراہم کی گئی ہیں تاہم اس کے لیے ترکی کی زمین استعمال کی گئی ہے۔ ان بوگس کمپنیوں میں سونے کی تجارت کرنے والی فرمیں شامل ہیں، جو تیسرے ملک کے ذریعے ایران کو سونا منتقل کرتی رہی ہیں۔

اخبار مانیٹر کے تجزیہ نگار اوگور گورسس کا کہنا ہے کہ ایران کو مالی مدد نہایت پیچیدہ طریقے سے کی گئی ہے۔ ایران نے نقد زر مبادلہ کے بجائے اسے گولڈ کی شکل میں تبدیل کرکے ترکی اور دوسرے ملکوں سے خرید کرنا شروع کر دیا تھا۔ عالمی اقتصادی پابندیوں سے بچنے کا یہ ایک "چور دروازہ" تھا۔ جس میں ترکی کوبھی استعمال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے تین سال کے دوران ترکی کے راستے آٹھ ارب ڈالرز کا سونا ایران کو بھجوایا گیا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے جنوری 2013ء میں امریکا نے ایران پر سونے کی درآمدات وبرآمدات پربھی پابندی عائد کردی تھی، لیکن پابندیوں سے قبل ایران ترکی سے 13 ڈالر کا سونا حاصل کرکے ذخیرہ کرچکا تھا۔

مبصرین کا کہ بھی خیال ہے کہ ایرانی حکومت کو وزراء کی کرپشن کا پہلے بھی علم ہوسکتا ہے۔ چونکہ خلق بنک کے ذریعے ایران کی مالی مدد کا پہلی مرتبہ انکشاف 2008ء میں ہوا تھا۔ اس کے بعد حکومت خاموش رہی ہے۔ نیز اتنی بھاری مقدار میں زرمبادلہ اور سونے کی غیرمعمولی مقدار ایران کو بغیر لاجسٹک اور سیاسی سپورٹ کے مہیا نہیں کی جا سکتی۔