.

اسلام قبول کرنے والی فرانسیسی خاتون 20 برس سے جدہ میں مقیم

قبول اسلام پر 'روشن خیال' رشتہ داروں نے مارگریٹ کو دھتکار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس سے تعلق رکھنے والی مارگریٹ پاسٹرماگین اسلام قبول کرنے کے بعد گذشتہ بیس سال سے سعودی عرب کے مشرقی شہر جدہ میں تن تنہا ایک خیراتی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ مارگریٹ نے جوانی کی عمر میں اسلام قبول کیا اور حلب کے ایک مسلمان سے شادی کے بعد دونوں جدہ منتقل ہو گئے تھے۔

مارگریٹ کی کسمپرسی کے بارے میں جانکاری کے لئے 'العربیہ' کے نامہ نگار سعود الخلف اس کے گھر پہنچے۔ مارگریٹ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ پچھلے بیس سال سے اس گھر میں اکیلی رہ رہی ہے۔ اس کے شوہرکا انتقال ہو چکا ہے۔ دوست احباب سب غائب ہو گئے ہیں۔ فرانس میں موجود رشتہ داروں نے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں اسے ٹھکرا دیا ہے۔

بوڑھی مارگریٹ تنہائی کے باوجود مایوس نہیں بلکہ امید کی شمع اب بھی روشن رکھے ہوئے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں۔ ماضی کی حسین یادیں میرے ساتھ ہیں۔ میں ماضی کی یادوں میں گم ہو جاتی ہوں اور مجھے تنہائی کا احساس نہیں رہتا ہے۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دوبارہ پیرس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں تو مارگریٹ کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے میرے عزیز و اقارب مجھے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے میں نے زندگی کے بقیہ ایام بھی سعودی عرب ہی میں گذارنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ سعودی عرب میرے آبائی وطن سے زیادہ شفیق ہے۔ یہ دو عشروں سے میرا وطن ہے اور اس سے میرے ماضی کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔