.

بیت اللحم کے گرد کھڑی کی گئی دیوار کی پرچھائِیاں لندن میں

'' دیوار کو گرنا چاہیے'' اسرائیلی دیوار کے بارے میں مسیحیوں کے جذبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی دارالحکومت لندن تک اس اسرائیلی دیوار کی پرچھائیاں پہنچ گئی ہیں جس نے فلسطین کے مغربی کنارے میں عیسائیوں کے مقدس مقام اور حضرت عیسی کی جائے پیدائش بیت اللحم کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اہل لندن کو بیت اللحم کے گردا گرد کھڑی کی گئی دیوار سے سے روشناس کرانے کا یہ اہتمام سنٹرل لندن میں قائم ایک تاریخی گرجا گھر میں کیا گیا ہے۔

کرسمس کے موقع پر اس دیوار کو حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں کے درمیان جیتی جاگتی شکل میں میں لے آنا ایک معنی خیز تخلیقی کاوش ہے۔ آٹھ میٹر اونچی دیوار کے انسٹالیشن سے متعلق کریٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ اہتمام اس لیے کیا ہے کہ لوگوں کو دکھا یا جا سکے کہ 2013 میں بیت اللحم کس حال میں ہے۔

اس علامتی محاصرے کی آئینہ دار دیوار کے ذریعے لندن کے تاریخی سینٹ جیمز گرجا گھر کا چہرہ بھی دھندلایا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بیت اللحم یہودی دیوار کے پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اہل لندن تاریخی مقدس مقامات کے یہ دھندلا دیَے گئے مناظر 5 جنوری تک دیکھ سکیں گے۔

اس میلے کے کریتیو ڈائریکٹر جسٹن بچر کا العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا'' میلے کا ہدف بیت اللحم کے موجودہ حالات کی عکاسی ہے۔ جسے مغربی دنیا کرسمس کارڈز کی زینت بناتی ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ان کے ذہن میں اس منظر کشائی کا خیال تب آیا تھا جب انہوں نے برطانوی آرٹسٹوں کے گروپ کے ساتھ 2012 میں اسرائیل میں بیت اللحم کو کنکریٹ کی بنی اونچی دیوار کے حصار میں دیکھا تھا۔''

یہ ان معنوں میں بڑا اثر انگیزی کا حامل دورہ تھا کہ اس دوران نا انصافی اور کرب کو محسوس کرنے کا موقع ملا۔'' جسٹن بچر نے بیت اللحم کے گرد کھڑی کی گئی دیوار کے بارے میں اپنے تاثرات العربیہ کے ساتھ شئیر کرتے ہوئے کہا۔ سینٹ جیمز گرجا گھر میں کھڑی کی گئی اس علامتی دیوار پر عام لوگوں کو اپنے جذبات اور تاثرات تحریری شکل میں منتقل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

جسٹن بچر کا کہنا ہے کہ 23 دسمبر سے اب تک سامنے آنے والے تاثرات بڑے پر جوش ہیں۔ لوگوں نے امن اور امید کی بات کی ہے ، ایک تحریر یہ ہے '' اس دیوار کو ضرور گرنا چاہیے۔'' بعض نے اس دیوار کو زندگیاں بچانے کیلیے ضروری قرار دیا ہے۔ تاہم یہ خیالات قدامت پسند یہودیوں کے ہیں۔

دیوار برلن کے بعد یہ تقسیم اور نفرت کی بنیاد پر بننے والی دوسری دیوار ہے، جس کا آغاز اسرائیل نے 2002 میں کیا اور اب تک 405 کلومیٹر دیوار بنا چکا ہے جبکہ اس کا ہدف 790 کلومیٹر تک ہے۔

جسٹن بچر کے مطابق اس دیوار نے نہ صرف مختلف طبقات کے درمیان دوری بڑھائی ہے اور طبقات کو باہم تقسیم کر دیا ہے بلکہ معاشی اعتبار سے بھی منفی نتائج مرتب کیے ہیں۔