.

سعودی عرب میں پہلی خاتون وکیل کے دفتر کا افتتاح

خواتین وکلاء مردوخواتین دونوں کی نمائندگی کرسکتی ہیں:بیان الزہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کسی خاتون وکیل کا پہلا دفتر کھل گیا ہے اور یہ اعزاز پانے والی خاتون بیان الزہران ہیں جنھیں دوماہ قبل تین اور خواتین کے ساتھ سعودی مملکت میں پیشہ وکالت کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔

بیان الزہران نے جمعرات کو اپنے دفتر کے افتتاح کے موقع پر العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہماری سرگرمی صرف خواتین کے کیسوں تک محدود نہیں ہے۔سعودی عرب کا وکالتی نظام مردوخواتین سے مساویانہ سلوک کا حامل ہے اور ایک وکیل دونوں صنفوں کی نمائندگی کرسکتا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ان کے دفتر نے حال ہی میں افراد اور کمپنیوں دونوں کے متعدد کیس حاصل کیے ہیں''۔انھوں نے اس ضمن میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں وکلاء اور خواتین کی حیثیت میں مستقل طور پر وہی کرنا چاہیے جو سعودی خواتین کے لیے بہتر ہے۔

خوبصورت قدم

الزہران نے اپنے دفتر کے افتتاح پر سماجی ردعمل کو ''خوبصورت''قراردیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے ٹویٹر صفحے پر انھیں مبارکباد کے سیکڑوں پیغامات موصول ہوئے ہیں اور 6 اکتوبر کے بعد انھیں ہرطرف سے مثبت ردعمل ہی ملا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عدالتوں کے اندر بھی جج صاحبان اور عملے کی جانب سے ان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔الزہران نے اس سے پہلے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ''لائسنس ہمارا حق تھا لیکن یہ قانونی نظام کی دفعہ 3 کے تحت وضع کردہ شرائط کے اطلاق کے بغیر ہمیں نہیں مل سکتا تھا''۔

انھوں نے بتایا کہ لائسنس کے حصول سے ہی عامل وکلاء کے رجسٹرار کے ہاں انھیں تسلیم کیا جاسکتا ہے۔الزہران کو مختلف مراحل سے گزرنے اور تصدیق شدہ اداروں میں تین سال تک کنسلٹینٹ کے طور پر کام کرنے کے بعد لائسنس ملا تھا۔

انھوں نے ابتداء میں گھریلو تشدد سے متعلق کیسوں پر کام کیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے مالیاتی لین دین اور فوجداری قیدیوں سے متعلق کیس لینا شروع کردیے تھے۔