.

مسجدوں کا شہر فلوجہ: شدت پسندوں کے نرغے میں عوام کا نیا مقتل!

فلوجہ کے عوام امریکی یلغار کے خلاف مزاحمت میں بھی پیش پیش رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وسطی شہر فلوجہ میں جاری کشیدگی نئی نہیں ہے۔ شہر کے لاکھوں باسی دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر ملکی افواج کی خونی یلغاروں کا با رہا سامنا کر چکے ہیں۔ سُنی مسلک کے پیروکاروں کی اکثریت والے فلوجہ شہر کےعوام نے جہاں مقامی عسکریت پسندی اور القاعدہ کی دہشت گردی کے زخم سہے وہیں انہوں نے دو مرتبہ امریکی جنگوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن آج یہ شہرایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کےنرغے میں ہے۔

اہالیاں فلوجہ میں طاغوتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی خوبی اپنی جگہ، اس شہر کی ایک بڑی پہچان یہاں پر صدیوں پرانی اور بے شمار مساجد بھی ہیں۔ بغداد اپنی مادی اورعلمی ترقی میں اگر"عروس البلاد" کہلاتا تھا تو فلوجہ کو مساجد کا شہر قرار دیا جاتا تھا۔ چالیس مربع کلو میٹر پر پھیلے اس شہر میں اب بھی پانچ لاکھ مسلمان مقیم ہیں۔ ان کی اکثریت راسخ العقیدہ سنی مسلمانوں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ کی شدت پسند تنظیم "داعش" اور دیگر گروپوں نے اسی شہر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔

بغداد کے شمال مغرب میں ساٹھ کلومیٹر کی مسافت پر واقع فلوجہ شہر میں کئی قدیم عرب قبائل آباد ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی جڑیں سر زمین حجاز سے بھی ملتی ہیں۔ ان بڑے قبائل میں الدلیم اور اس کی تمام شاخیں، بنی تمیم، الکبیسات، العزہ، زوبع اور کرد قبائل بھی مقیم ہیں۔

مختلف تاریخی اور تہذیبی ثقافتی نشانیوں میں قدیم اور بڑی مساجد شہر کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ بڑی اور کشادہ مساجد کے ساتھ طویل مینار مسلمانوں کے مختلف ادوار کے فن تعمیرکی آج بھی عکاسی کر رہے ہیں۔ شہر کی جامع مسجد الکبیر 1899ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ شہر میں 550 تاریخی اور بڑی مساجد بھی موجود ہیں۔

سنہ 2003ء میں جب قاہر امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کے الزام میں عراق پر حملے شروع کیے تو امریکی جارحیت کے خلاف سب سے توانا آواز فلوجہ کے عوام نے اٹھائی تھی۔ سنہ 2004ء میں امریکی فوج نے براہ راست فلوجہ پر بمباری شروع کی تو یہاں کے غیور عوام نے طاغوتی فوج کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کر کے روشن مثال قائم کی تھی۔