.

سعودی عرب:آسمان سے انسانی اعضاء زمین پر آ گرے

جدہ میں طیارے کے پہیوں والے حصے میں پھنسے شخص کی لاش گرگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں آسمان سے انسانی اعضاء زمین پرآ گرے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اعضاء ممکنہ طور پر کسی طیارے کے پہیّوں والے حصے میں چھپے ہوئے شخص کے ہوسکتے ہیں جو دوران پرواز جہان فانی سے کوچ کرگیا۔

جدہ پولیس کے ترجمان نواف بن نصر البوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''پولیس کو رات اڑھائی بجے ایک فون کال موصول ہوئی تھی اور ایک عینی شاہد نے مشرفہ کے علاقے میں ایک چوراہے میں انسانی اعضاء گرنے کی اطلاع دی تھی''۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیق سے یہ انسانی اعضاء ایک طیارے کے لینڈنگ گیئر میں چھپے ہوئے شخص کے ہوسکتے ہیں جو پرواز بلند ہونے کے ساتھ منجمد کردینے والی سردی سے مر گیا اور پھر زمین پر آرہا۔پولیس اس واقعے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔ابھی یہ تفصیل سامنے نہیں آئی ہے کہ یہ شخص کہاں سے آرہا تھا اور کس طیارے میں چھپا تھا۔

جدہ میں انسانی اعضاء گرنے کے اس واقعے کی اطلاع منظرعام پر آنے سے قبل مدینہ منورہ میں سعودی ائیرلائنز کے ایک مسافر طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی تھی جس کے نتیجے میں انتیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اس طیارے کے پچھلے پہیّوں میں فنی خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کو ہنگامی طور پر اتارنا پڑا اور اس طرح یہ طیارہ کسی بڑے حادثے کا شکار ہونے سے بچ گیا ہے۔

واضح رہے کہ بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے کے خواہاں افراد اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ناقص سکیورٹی اور مانیٹرنگ کے حامل ہوائی اڈوں سے طیاروں کے لینڈنگ گیئر والے حصے میں چھپ جاتے ہیں۔ایسے افراد طیارے کے فضا میں انتہائی بلند پر پہنچنے کے بعد منجمد کردینے والی سردی میں ہمیشہ کے لیے اس جہانی فانی سے ہی کوچ کرجاتے ہیں۔تاہم بعض افراد زندہ بچ رہنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں۔

2010ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کسی پوچھ تاچھ کے بغیر رن وے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور وہ سعودی عرب جانے والی پرواز کے پہیوں والے حصے میں چھپ گیا تھا۔اس واقعہ پر ہوائی اڈے کی سکیورٹی کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

طیارے کے نیچے چھپنے والا یہ شخص بھی سردی سے ٹھٹھر کر سعودی عرب زندہ سلامت پہنچنے کے بجائے اگلے جہان پہنچ گیا تھا۔اس کی لاش ریاض میں ایک مرمتی ورکر کو سعودی ملکیتی ناس ائیربس 320 کے لینڈنگ گیئر کے معائنے کے دوران ملی تھی۔