.

موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا شیرون کی حادثات سے بھرپور زندگی

ایک بیوی ٹریفک حادثے، دوسری کینسر اور بیٹا بندوق سے کھیلتے ہوئے مرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے سابق وزیراعظم ارئیل شیرون پچھلے آٹھ سال سے نیم مردہ حالت میں ایک اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ہزاروں فلسطینیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والے اسرائیلی فوجی رہنما کے بارے میں ایک ہفتہ قبل سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹس میں ہفتے سے زیادہ زندہ رہنا محال بتایا گیا تھا۔ میڈیکل رپورٹس آتے ہی اسرائیلی میڈیا اور سیاسی و حکومتی حلقوں میں سراسیمگی کی کیفیت طاری ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ کسی بھی وقت شیرون کی رخصتی کا بگل بجنے کو ہے۔

ارئیل شیرون کے اس ممکنہ چل چلاؤ کے ہنگاموں میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی کے بعض پہلوؤں کے حوالےے سے ایک تحقیقی رپورٹ تیارکی ہے جس میں جنرل شیرون کی عائلی زندگی کے بارے میں بہت سی تفصیلات پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے قاتل ارئیل شیرون کی اپنی خاندانی زندگی بھی حادثات سے بھرپور ہے۔

شیرون نے یکے بعد دیگرے رومانیہ میں پیدا ہونے والی دو سگی بہنوں سے شادی کی۔ پہلی بیوی مارگلیٹ سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ سنہ 1962ء میں مسز مارگلیٹ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس آتے ہوئے ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئی۔ اس کی پراسرار موت کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ حادثہ ایک خود کش حملہ آور کے حملے کی کوشش کے وقت پیش آیا۔ جب ایک نامعلوم شخص نے مارگلیٹ کی کار سے ٹکرانے کی کوشش کی تو اس نے خود کش بمبار سے بچتے ہوئے کار سمت مخالف سے آنے والے ایک ٹینکر سے دے ماری، جس سے مارگلیٹ موقع ہی پر دم توڑ گئی۔

باپ کی بندوق سے بیٹے کی المناک موت

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "مارگلیٹ" سے ارئیل شیرون کا تعارف 1947ء میں اس وقت ہوا جب مارگلیٹ کی عمرسترہ اور شیرون کی انیس سال تھی۔ چھ سال بعد دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ سنہ 1956ء میں مارگلیٹ کے ہاں بیڈا ہوا، جس کا نام" گور شیرون" رکھا گیا۔ چاراکتوبر سنہ 1967ء کو گور ایک دوست کے ہمراہ اپنے والد کی بندوق سے کھیلتے ہوئے اچانک گولی چلنے سے ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ اردن، شام، مصر اور اسرائیل کے درمیان چھ روز تک جاری رہنے والی عرب ۔ اسرائیل جنگ سے محض چار ماہ بعد پیش آیا تھا۔ گور کو شدید زخمی حالت میں ارئیل شیرون نے اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور اسپتال لے گیا، لیکن سینے میں گولی لگنے کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکا انتقال کرگیا۔ اسے اپنی والدہ کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔

گور شیرون کو جب حادثہ پیش آیا تو اس وقت اس کی عمر محض گیارہ برس تھی۔ اس نے اپنے والد کی بندوق اٹھائی اور اپنے ہی گھرمیں اس سے کھیلنے لگا مگر شیرون نے اسے گھرکے اندر کھیلنے سے منع کردیا۔ وہ اپنے ایک پڑوسی دوست کے ساتھ چلا گیا اوراسی دوست کے گھرمیں اسے گولی لگی۔

گور کو زخمی حالت میں اسپتال لے جاتے ہوئے شیرون کی 32 سالہ بیگم"لیالی" جو بعد میں "لیلیٰ" کے نام سے مشہور ہوئی بھی ہمراہ تھی۔ لیلی شیرون کی پہلی بیوی مارگلیٹ کی چھوٹی بہن تھی۔ سنہ 1963ء میں لیلی نے شیرون سے شادی کی، جس سے اس کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ اس وقت عومری کی عمر47 اور گیلاد شیرون کی 49 برس ہے۔ سنہ 1999ء میں لیلیٰ شیرون اچانک کینسرکا شکار ہوئی اور صرف چند ماہ زندہ رہنے کے بعد اسی موذی مرض نے اس کی جان بھی لے لی۔

اخبار یروشلیم پوسٹ کے مطابق ارئیل شیرون کسی بھی وقت اس دنیا سے کوچ کر سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت نے ہنگامی طور پر ان کی وفات سے قبل تیاریاں شرع کر دی ہیں۔ حکومت ارئیل شیرون کا جنازہ جنوبی افریقہ کے نسل پرست مخالف رہ نما نیلسن منڈیلا کی طرح یادگار بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

کافی، شراب اور سیگریٹ کے رسیا

ڈاکٹروں نے ارئیل شیرون کو33 سال قبل ان کی سگریٹ نوشی، کافی کے حد درجہ استعمال اور شراب نوشی سے پرہیز کی ہدایت کی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خطرناک نشہ آور اشیاء کے اسعتمال کرنے والے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاتے ہیں۔ لیکن ارئیل شیرون نے ڈاکٹروں کی وارننگ کو 33 سال تک چلینج کیے رکھا ہے۔

معالجوں نے شیرون کو سنہ 1980ء میں روسی شراب اور سیگریٹ نوشی سے منع کیا تھا مگر وہ باز نہیں آئے۔ سنہ 2006ء میں جب وہ کومے میں چلے گئے تو وہ موٹاپے کا بھی شکار ہو چکے تھے۔ ان کا وزن 115 کلو گرام بتایا گیا تھا۔

ارئیل شیرون نے بعد از وفات جزیرہ نما نقب میں اپنے ایک فارم ہاؤس میں دفن کرنے کی وصیت کر رکھی ہے۔ یہ فارم انہوں نے سنہ 1972ء میں خرید کیا تھا۔ عبرانی میں "حفات ھشیکیم"[انجیر فارم] کے نام سے چار مربع کلومیٹر پر پھیلے اس فارم میں شیرون نے جنگلی اور پالتو جانور رکھے ہوئے ہیں۔

امریکا میں اکلوتی ہمشیرہ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی تحقیق کے مطابق ارئیل شیرون اصلا شیرون خاندان سے تعلق نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان کا تعلق "شائنرمان" یہودی قبیلے سے ہے۔ ان کے والد صموئل مشرقی یورپ کے اشکنزئی یہودی قبائل سے تعلق رکھتے تھے جبکہ والدہ "ڈفورا" روسی نژاد یہودی تھی۔

ارئیل شیرون کی اکلوتی بڑی بہن 80 سالہ "یہودیت" اب بھی امریکا میں بہ قید حیات ہے۔ یہودیت منڈل پولش ڈاکٹرصموئل منڈل کے ساتھ شادی کے بعد امریکا چلی گئی تھی اور وہیں پرمستقل سکونت اختیار کر لی۔ ارئیل شیرون مشرقی یورپ سے اپنے والدین کے ہمراہ اسرائیل چلا آیا۔ جبکہ یہودیت ایک مرتبہ بھی اسرائیل نہیں آئی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے "یہودیت" کی تصاویرکی تلاشی کی کوشش کی مگر صرف ایک پرانی تصویر دستیاب ہوسکی ہے میں ڈیڑھ سالہ شیرون، والڈ "ڈفورا" اور بیٹی یہودیت دکھائی دیتے ہیں۔