.

کشیدگی کے جلو میں مصر اور قطر تعلقات کا مستقبل؟

دوحہ، مصر کی عبوری حکومت پر اخوان کو ترجیح دیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پہلے منتخب صدر کی جولائی 2013 میں معزولی نے مصر اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کو سخت خطرے سے دوچار کر دیا تھا۔ اس کی وجہ خلیجی ریاست کی طرف سے معزول صدر کی حمایت بنی تھی۔

دوطرفہ کشیدگی کو اس چیز نے مزید بڑھا دیا ہے کہ قطر نے عبوری مصری حکومت کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دینے پر غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔ صورت حال اب انتہائی آنچ کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف میں مزید شدت کا سبب مصری وزارت خارجہ کی جانب سے قطر کے سفیر کو پچھلے ہفتے کے روز بلایا جانا بنا ہے تا کہ وہ وضاحت کریں کہ قطری وزارت خارجہ نے اخوان کو دہشت گرد قرار دینے پر ایسا بیان کیوں دیا اور مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں کی۔

واضح رہے قطر کی وزارت خارجہ نے کھلے اور سخت الفاظ میں اخوان کو دہشت گرد کہنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا ''عبوری حکومت کا حالیہ فیصلہ مظاہرین کو گولی مار کر قتل کرنے کا آغاز ہے۔ ''قطری وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں مزید کہا تھا ''مصری حکومت کا یہ فیصلہ عوام میں مقبولیت رکھنے والی سیاسی تحریک کو دہشت گرد قرار دینا اور پرامن احتجاج کو دہشت گردی کا نام دینے سے پرامن احتجاج کا راستہ نہیں رک سکے گا۔ یہ صرف گولی چلانے اور قتل کرنے کی پالیسی ہے۔''

قطری وزارت خارجہ کا اپنے ردعمل میں یہ بھی کہا تھا کہ مصر میں تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر سیاسی مسئلے کا حل نکالا جائے۔ قطری سفیر کو طلب کر کے مصر کی عبوری حکومت نے قطر کے اس ردعمل کو عملا مسترد کر دیا ہے۔ اس بارے میں مصر کے ممتاز تجزیہ کار عبدالطیف المیناوی کا کہنا ہے کہ ''مصر کی طرف سے قطری سفیر کو بلانا قطری حکومت کیلیے کھلا انتباہ ہے جیسا کہ مصر کا شائع شدہ موقف بھی واضح اور قطری عزائم کے خلاف ہے۔''

انہوں نے مزید کہا '' گذشتہ برس دسمبر میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے دوران قطر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے خیالات پر نظر ثانی کرے گا لیکن شیخ تمیم نے اپنے اس قول کا پاس نہیں کیا ہے۔''

الاہرام سنٹر میں عرب اور علاقائی سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ محمد السعید ادریس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ''مصر ہمیشہ قطر کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے مثبت رہا ہے، لیکن قطر نے مصر سے معاہدات پر اخوان المسلمون کو ترجیح دی ہے۔'' محمد السعید ادریس نے مزید کہا ''مصر کو یہ توقع رہی ہے کہ قطر ایک عرب ملک کے طور پر دو طرفہ معاہدوں کا احترام کرے گا اور مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔''

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوحا کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ قطر، اخوان المسلمون کے ساتھ ہے اور اس چیز کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں ہے اس سے دوطرفہ تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔'' یہ سلسلہ اس وقت سے چل رہا ہے جب مصر کی سکیورٹی فورسز نے سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کے قاہرہ میں دو احتجاجی کیمپوں پر چڑھائی کی اور انہیں اکھاڑ پھینکا تھا۔

مصری حکومت کو قطر سے تعلق رکھنے والے الجزیرہ سے بھی شکایت ہے کہ دوحہ سے نشریات پیش کرنے والا یہ چینل دہشت گرد قرار دی گئی اخوان المسلمون کا حامی ہے۔ اس بنیاد پر پچھلے ہفتے مصر کے پراسکیوٹر نے متعدد صحافیوں کو پندرہ دنوں نظر بند بھی کیا تھا۔ کہ انہوں نے الجزیرہ پر ایسی تصاویر دکھائیں جو مصر کے حق میں اچھی نہ تھیں۔ عبداللطیف المناوی کا کہنا ہے کہ ''قطر کو چاپیے کہ وہ مصری عوام کی ضرورت کو سمجھے اور مصر میں استحکام کو اہمیت دے۔''

اتوار کے روز مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر نے الجزیرہ کی طرف سے مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حوالہ دیا اور کہا مصر کسی ملک یا بیرونی گروہ کو اس امر کی اجازت نہیں دے گا کہ مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔'' ترجمان نے خبردار کیا کہ الجزیرہ پر خبروں کی براہ راست نشریات ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں، ان کی وجہ سے ملک میں غلط افواہیں پھیلتی ہیں۔'' جوابا 'الجزیرہ' نے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس مقصد کے لئے رائے عامہ منظم کرنے کی خاطر الجزیرہ آن لائن مہم شروع کرے گا۔

قطر سے اسی ناراضگی کے باعث ستمبر میں مصر نے وہ دو ارب ڈالر بھی واپس کر دیے جو قطر نے مرکزی بنک میں جمع کرائے تھے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر محمد مرسی کے دور اقتدار میں ان کی حکومت کو غیر معمولی امداد دی گئی تھی۔