.

بلوچستان اسمبلی کے رکن کے تہ خانے سے زنجیربند بچے بازیاب

پولیس چھاپے میں کھیتران ہاؤس سے اسلحے اور گولہ بارود سے بھرا ٹرک برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی اسمبلی کے منتخب رکن اور معروف سیاست دان عبدالرحمان کھیتران کے گھر کے تہ خانے سے زنجیروں میں بندھے سات افراد برآمد ہوئے ہیں۔

عبدالرحمان کھیتران کو دوروز قبل پولیس اہلکاروں پر ان کے محافظوں کے حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن جب پولیس سے چھینے گئے ہتھیاروں کی تلاش کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں تہ خانے میں تین بچے اور چار بالغ افراد زنجیروں میں بندھے پائے گئے۔

کیتھران کے محافظوں نے گذشتہ اتوار کو ایک چیک پوائنٹ پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا تھا اور ان کے ہتھیار چھین کر فرار ہوگئے تھے۔صوبہ بلوچستان کے ضلع بارکھان کے پولیس سربراہ عبدالغفور مری کے مطابق اس واقعے کے بعد عبدالرحمان کیتھران ،ان کے بیٹے اور چھے ذاتی محافظوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے چنگل سے ان سات افراد کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔

مری کا کہنا تھا کہ ان افراد کے ساتھ دوران حراست ناروا سلوک کیا گیا تھا۔پولیس نے رکن اسمبلی کھیتران کے گھر سے اسلحے اور گولہ بارود سے بھرا ایک ٹرک بھی برآمد کیا ہے۔

اس رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں سیاسی محرکات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے گھر میں پولیس کا داخلہ غیر قانونی تھا۔ان کی اہلیہ بھی سیاست دان ہیں اور وہ مذہبی سیاسی جماعت جمعیت العلماء اسلام کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں وڈیراشاہی، قبائلی،جاگیرداری اور سرداری نظام کا دور دورہ ہے اور بااثر قبائلی سردار کسی ملکی قانون سے ماوراء اپنے مخالفین کو قید وبند میں ڈالتے رہتے ہیں اور بہت سے قبائلی سرداروں پر اپنی نجی جیلیں قائم کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔