.

80 سالہ ایرانی شخص کی 60 سال سے نہائے بغیر زندگی

غسل سے بیمار پڑجاؤں گا:قبرنما گڑھے میں رہنے والے آمو حاجی کا عقیدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم زمانہ قبل از تاریخ کے انسانوں کا احوال تو پڑھتے آئے ہیں کہ وہ جنگلوں میں رہتے تھے،درختوں کے پتوں اور جانوروں کے کچے گوشت پر ان کا گزارہ ہوتا تھا۔وہ ہرلحاظ سے تہذیب وتمدن سے کوسوں دور تھے لیکن آج اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے مختلف گوشوں سے گاہے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حضرت انسان نے اپنے قدیم آباء واجداد کی روایات کو یکسر ختم نہیں ہونے دیا بلکہ انھیں زندہ رکھا ہوا ہے۔

ایسے ہی ایک حضرت کی ایران میں موجودگی کا پتا چلا ہے۔نام ان کا آمو حاجی ہے لیکن لگتا ہے کہ حاجی ان کے نام کا حصہ ہے ورنہ انھوں نے حج نہیں کیا ہوا جس کی بنا پر حاجی ان کے نام کا سابقہ یا لاحقہ بن جاتا۔آمو حاجی جانوروں کے گوبر سے بنے اوپلوں کے دھویں کو سگریٹ کے طور پر استعمال کرتے اور اس کے کش سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔وہ مرداروں کا گوشت کھاتے ہیں۔

یہ تو ان کے جنگلی پن کی ادنیٰ نشانیاں ہیں لیکن ان کی شخصیت کا خاص پہلو یہ ہے کہ وہ گذشتہ 60 سال سے نہائے نہیں ہیں۔وہ کیوں نہیں نہاتے؟اس لیے کہ انھیں یقین ہے کہ وہ نہانے سے بیمار پڑ جائیں گے۔

آمو ایران کے جنوبی صوبے کے ایک گاؤں دیجگاہ میں ایک گڑھے میں رہتے ہیں۔وہ مجرد زندگی گزار رہے ہیں مگراسّی سال کی عمر میں ہونے کے باوجود محبت کی تلاش میں ہیں۔البتہ اس کے لیے ان کی شرط یہ ہے کہ اگر کوئی عورت انھیں پسند کرتی ہے تو اس کو ان بزرگ صاحب کو ان کی اسی حالت اور شخصیت کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔

ایرانی روزنامے تہران ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آمو حاجی نے ایک چھیاسٹھ سالہ بھارتی کیلاش سنگھ کو محض اس جرم میں پیٹ ڈالا تھا کہ انھوں نے آمو کے گذشتہ اڑتیس سال کے دوران نہ نہانے کا سراغ لگا لیا تھا۔ایک مرتبہ جب نوجوانوں کے ایک گروپ نے انھیں نہلانے کی کوشش کی تھی تو وہ بھاگ نکلے تھے اور کہا تھا کہ نہا کر پاک ہونے کی صورت میں وہ بیمار پڑ جائیں گے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ان بوڑھے صاحب کی رہنے کی مختلف جگہیں ہیں۔ان میں ایک قبرنما گڑھا ہے۔دوسرا اینٹوں سے بنا جھونپڑا ہے۔یہ جھونپڑا ان کے چاہنے والوں (ہمدردوں) نے بنا کر دیا تھا۔

آموحاجی بالعموم قریب سے گزرنے والی کاروں کے شیشوں میں اپنی شکل صورت دیکھ کر اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ وہ کیسی ہے،اگر ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال بڑے ہوجائیں تو وہ ان کی قینچی سے تراش خراش نہیں کرتے بلکہ آگ سے جلا کر انھیں چھوٹا کر لیتے ہیں۔سردموسم خزاں میں ٹھنڈ سے بچنے کے لیے وہ گرم ہیٹ اور ہیلمٹ پہنتے ہیں۔