.

یو اے ای میں لازمی فوجی خدمات کا قانون منظور

متحدہ عرب امارات فوجی سروس لازمی قرار دینے والا پہلا خلیجی ملک ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے وفاقی قانون کے پروگرام کے مطابق ریزرو اور نیشنل سروس ایکٹ کی منظوری دی ہے، جسے باقاعدہ نفاذ کے لیے جلد ہی نیشنل فیڈرل کونسل میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق 'یو اے ای' کابینہ کا سال 2014ء کا پہلا اجلاس اتوار کو وزیر اعظم الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی زیرصدارت ابوظہبی میں ہوا۔ اجلاس مین نیشنل سروس ایکٹ کا بل پیش کیا گیا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم الشیخ محمد بن راشد کا کہنا تھا کہ نیشنل سروس ایکٹ کی منظوری سے تمام شہریوں بالخصوص نوجوان طبقے کو قومی اقدار سے اپنا تعلق مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ سروس عوام میں قوانین کی پاسداری، نظم وضبط کی پابندی اور وطن کی تعمیر و ترقی اور اس کی فلاح بہبود کے لیے ہر طرح کی قربانی کا جذبہ پیدا کرے گی"۔

الشیخ راشد آل مکتوم نے نوجوان طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں اپنے عزیز ہم وطن نوجوانوں کو یہی کہوں گا کہ ہم اور ہمارے اسلاف نے وطن کے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے دفاع کی تمام ترذمہ داری اب تم پر عائد ہوتی ہے۔ تم ہی اس ملک کے حال اور مستقبل کے اصل نگہبان اور محافظ ہو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مل کر وطن کو مزید مضبوط اور مستحکم کریں گے"۔

خیال رہے کہ نئے قانون کی رو سے اٹھارہ سے تیس سال کی عمر کے تمام مرد حضرات دو سال کے لیے لازمی فوجی خدمات انجام دینا ہو گی تاہم خواتین کے لیے یہ سروس اختیاری نوعیت کی ہے۔ وہ اپنی مرضی سے اس شعبے میں خدمت انجام دیں توحکومت ان کی حوصلہ افزائے کرے گی۔ نیشنل سروس کے دوران نوجوانوں کو مسلح افواج کے کیمپوں میں عسکری اور سیکیورٹی سے متعلق مختلف شعبوں میں ٹریننگ دی جائے گی۔

نیشنل سروس میں خدمات کی انجام دہی کے لیے فیڈرل گورنمنٹ، لوکل گورنمنٹ اور سول سیکٹر کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کو بھی بھرتی ہونے اور ضروری سروس مکمل کرنے کی اجازت ہو گی تاہم ان کا یہ عرصہ سروس (اصل ملازمت) کا حصہ سمجھا جائے گا۔ یو اے ای کی حکومت نے وزیر انصاف ڈاکٹر ہادف بن جوعان الظاہری کی نگرانی میں زکواۃ کونسل کے نئے ڈھانچے کی بھی منظوری دی۔