.

الجزائر میں ہٹلر کے ہم شکل نے سراسیمگی پھیلا دی

ہٹلر کے فلسفے کا قائل نہیں، لیکن فلمی کردار ادا کر سکتا ہوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں متعدد عام لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی مشاہیر عالم سے شباہت نے انہیں مشہور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کے کئی ہم شکل تھے۔ القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کے ہم شکل کی موجودگی کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ میں آتی رہی ہیں۔

شمالی افریقا کے ملک الجزائر میں ایسا ہی ایک شخص ان دنوں عوامی حلقوں میں دلچسپی کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور خبروں کی دنیا میں مشہور ہونے والے اس شخص کا نام حسین بن فرحی ہے۔ فرحی الجزائری شہر "باتنہ" کا رہائشی ہے۔ اس کی شکل جرمنی کے سابق فوجی ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلرسے کافی حد تک ملتی ہے۔ جو لوگ ہٹلر کی شکل سے واقف ہیں وہ حسن فرحی کو دیکھتے ہی بلا اخیتار پکار اٹھتے ہیں"اوہ۔۔۔! یہ ہٹلر کہاں سے آ گیا"۔

الجزائر کے کثیر الاشاعت اخبار "الشروق" کے مطابق حسین بن فرحی نے کچھ عرصے سے اپنا "حلیہ" اس طرح کا بنا رکھا ہے کہ اس کی مونچھیں، سرکے بال اور چہرے کے خدو خال دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قاتل کے طور پر شہرت پانے والے جرمن ڈکٹیٹر اڈولف ہٹلر کی 'کاپی' معلوم ہوتے ہیں۔

حسین فرحی چونکہ خود ایک کھلاڑی ہیں اور اپنے شہر میں بنائے گئےایک اسپورٹس کلب کے تیس سال تک سربراہ رہے ہیں، اس لیے ان کا حلقہ تعارف عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ کھیل سے شغف رکھنے والے شہریوں میں بھی موجود ہے۔

حسین فرحی نے اخبار الشروق سے ایڈولف ہٹلرسے ہم شکل ہونے کے حوالے سے دلچسپ پیرائے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ صرف میری شکل دیکھ کر مجھے ہٹلر قرار دیتے ہیں حالانکہ مجھ میں اور ہٹلرمیں زمین واسمان کا فرق ہے۔ وہ جرمن تھا۔ میں الجزائری ہوں۔ وہ غیرمسلم تھا جبکہ میں مسلمان ہوں اور اپنے وطن الجزائرسے محبت کرتا ہوں۔ مجھ میں اور ایک عام الجزائری شہری میں اس بات کے سوا کوئی فرق نہیں کہ میری شکل کسی حد تک ہٹلر سے ملتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حسین ابن فرحی کا کہنا تھا کہ میں ہٹلر کے فکر و فلسفے کا ہر گز قائل نہیں ہوں۔ ہٹلر نے کئی یورپی ملکوں کو تاراج کیا اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا تھا۔ تاہم اگر فلموں میں مجھے ہٹلر کا کردار سونپا جائے تو اس کے لیے کام کرنے کو تیار ہوں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسین بن فرحی کی ہٹلرسے مشابہت کے نتیجے میں وہ عوام کی مسلسل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے لوگوں میں بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ لوگ اسے توجہ سے دیکھتے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا واقعی ہٹلر ایسا ہی تھا۔ کھلاڑیوں اور دوسرے لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران بعض اوقات دلچسپ اور مزاحیہ صورت حال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں حسین فرحی اپنے آبائی شہرمیں ہونے والے کھیل کے ایک مقابلے کے دوران گراؤنڈ میں پہنچا تو کچھ نئے کھلاڑی اسے دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ ان میں سے ایک نے تو یہ کہتے ہوئے دوڑ ہی لگا دی کہ "ہٹو بچو ہٹلرآ گیا"۔