.

''جنیوا آنے میں 12 گھنٹے لگے،چند منٹ اور بولنے دیں''

شامی وزیرخارجہ ولید المعلم کی تقریر کو طول دینے پر بین کی مون سے تلخ کلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیرخارجہ ولید المعلم جنیوا دوم کانفرنس کے پہلے روز اپنی تقریر کھینچ کر چالیس منٹ تک لے گئے حالانکہ انھیں دوسرے مقررین کی طرح بولنے کے لیے صرف سات منٹ کا وقت دیا گیا تھا لیکن انھوں نے بالاصرار کہا کہ وہ بارہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد یہاں پہنچے ہیں ،اس لیے انھیں کچھ منٹ اور بولنے دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے جب پچیسویں منٹ میں شامی وزیرخارجہ کو اپنی تقریر سمیٹنے کے لیے کہا تو ان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوگئی۔ولید المعلم کا بین کی مون کے ٹوکنے پر کہنا تھا کہ وہ یہاں شام کے بارے میں بات کرنے کے لیے آئے ہیں۔اس لیے انھیں تقریر ختم کرنے کے لیے پانچ سے دس منٹ اور دیے جائیں۔

اس موقع پرسیکریٹری جنرل نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا:''میں معذرت خواہ ہوں۔کیا آپ اس کو ختم نہیں کرسکتے،آپ پہلے ہی بیس منٹ سے زیادہ بات کرچکے ہیں''۔اس کا شامی وزیرخارجہ نے یوں جواب دیا:''مسٹر سیکریٹری آپ پچیس منٹ تک بولے ہیں۔میں طیارے میں بارہ گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں پہنچا ہوں۔مجھے اپنی تقریر ختم کرنے کے لیے چند منٹ اور درکار ہیں۔یہ شام ہے''۔

اس کے بعد دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:
بین:''آپ کتنا اور بولیں گے"۔
ولیدالمعلم:''میرے خیال میں پانچ سے دس منٹ''۔
بین:''اوہ نہیں۔۔۔۔میں اختتام پر آپ کو بولنے کا ایک اور موقع دوں گا۔کیا آپ دو منٹ میں اپنی تقریر سمیٹ نہیں سکتے ہیں''۔
ولیدالمعلم:''نہیں۔میں اپنی تقریر کو تقسیم نہیں کرسکتا۔مجھے اپنی تقریر جاری رکھنا ہے۔میں آپ سے یہ وعدہ بھی نہیں کرسکتا کہ میں دو ایک منٹ میں تقریر ختم کردوں گا''
بین کی مون:''تو پھر میں شامی حزب اختلاف کو بھی اتنا ہی وقت دوں گا''۔
ولیدالمعلم:''نہیں،نہیں۔آپ نیویارک میں رہتے ہیں۔میں شام میں رہتا ہوں۔مجھے اس فورم میں (بحران سے متعلق) شامی موقف بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔تین سال کے مصائب کے بعد یہ میرا حق ہے''۔
بین کی 'مون:''مہربانی فرما کر کسی اشتعال انگیزی سے گریز کیجیے گا۔اس طرح کے کلمات اس وقت تعمیری نہیں ہوں گے۔آپ کے پاس دو سے تین منٹ ہیں''۔
ولید المعلم:''ٹھیک ہے۔مجھے اب میری تقریر ختم کرنے دیں۔مزید بیس منٹ میں''۔

اس کے بعد بین کی مون نے شامی وزیرخارجہ کو اپنی تقریر مکمل کرنے کی اجازت دے دی لیکن جب شامی وزیرخارجہ کی تقریر کو پورا آدھا گھنٹا ہوگیا تو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک مرتبہ پھر انھیں روکنے کی کوشش کی۔اس پر شامی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وہ جلد اپنی تقریر ختم کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی یہ کہا کہ شام نے ہمیشہ اپنے وعدوں کا پاس کیا ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا:''یہ میرے اور شامی عوام کے لیے افسوسناک امر ہے کہ اس کمرے میں ان ممالک کے نمائندے موجود ہیں جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ان ممالک نے ہتھیار بھیجے،دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے لیے مالی سرپرستی بھی کی''۔

شامی وزیر خارجہ نے ان ممالک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ''انھوں نے پتھر پھینکنے سے قبل اپنے شیشے کے گھروں کی جانب نہیں دیکھا۔اب نقاب اترچکے اور ہم ان کا حقیقی چہرہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔دہشت گردی کی برآمد کے ذریعے شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تاکہ وہ اپنے ظلم وبربریت والے چہرے کو چھپا سکیں''۔

ان کا کہنا تھا:''آپ کو کس نے بتایا ہے کہ شام ایک ہزار سال پیچھے جانا چاہتا ہے۔انھوں نے انتہا پسندانہ اسلام پسندی کے حوالے سے انتباہ کیا اور کہا کہ یہ صرف شام تک محدود نہیں رہے گی''۔

اس موقع پر انھوں نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا خاص طور پر نام لیا جو شامی حزب اختلاف کی حمایت کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر رجب طیب ایردوآن نہ ہوتے تو پھر یہ سب کچھ بھی نہ ہوا ہوتا لیکن وہ نہیں جانتے کہ جادو ایک روز جادوگر کی جانب بھی لوٹ جاتا ہے۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے''۔

ولیدالمعلم نے ہال میں موجود دوسرے شرکاء کو مخاطب تو نہیں کیا۔البتہ ایک موقع پر انھوں نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''مسٹر کیری کوئی بھی قانونی جواز کو مسلط نہیں کرسکتا ہے''۔

اس دوران صدر بشارالاسد کی میڈیا مشیر لونا الشبل نے وزیراطلاعات عمران الزعبی کے کان میں کچھ سرگوشی کے بعد زوردار قہقہہ لگایا۔اس وقت ولید المعلم اپنی لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے اور شامی حزب اختلاف کی ظالمانہ کارروائیوں کا تذکرہ کررہے تھے تا کہ وہ بین الاقوامی حمایت حاصل کرسکیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اپوزیشن'' کی کارروائیوں کے نتیجے میں شام میں انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے۔اب یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ بشارالاسد کی میڈیا مشیر نے عمران الزعبی سے کیا کہا تھا لیکن انھوں نے وزیرخارجہ کی تقریر کے دوران چہرے پر قہقہہ لانے سے گریز ہی کیا اور سنجیدگی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔