.

اخوان کے لیڈروں سے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر وی آئی پی برتاؤ

دوسرے مسافروں کی طرح پوچھ تاچھ اور سامان کی تلاشی نہیں لی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر نیویارک کے مشہور جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر آمد کے موقع پر مصر کی سابق حکمراں مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے لیڈروں کے ساتھ خصوصی برتاؤ کیا گیا تھا اور دوسرے مسافروں کی طرح ان سے نہ تو پوچھ تاچھ کی گئی اور نہ جامہ تلاشی لی گئی تھی۔

اس بات کا انکشاف امریکی حکومت کی حال ہی میں جاری کردہ دستاویز میں کیا گیا ہے۔اخبار نیویارک پوسٹ نے اپنی منگل کی اشاعت میں بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اخوان المسلمون کے ارکان کے ساتھ مارچ اور اپریل 2012ء میں ان کی آمد پر خصوصی برتاؤ کیا گیا تھا۔اسی سال 30 جون کو ڈاکٹر محمد مرسی نے مصر کے پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔

اخبار نے محکمہ خارجہ کی مرتب کردہ دستاویزات کا حوالہ دیا ہے۔یہ دستاویزات بعد میں دہشت گردی پر بین الاقوامی منصوبہ کے حوالے کی گئی تھیں۔ان کے مطابق ہوائی اڈوں پر ''خیرسگالی برتاؤ''بالعموم غیرملکی شخصیات کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن اخوان المسلمون اور اس کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ جون 2012ء میں ان کے اقتدار سنبھالنے سے بھی قبل خصوصی برتاؤ کیا گیا تھا۔

امریکا جانے والے وفد میں شامل اخوان المسلمون کے ایک سینیر رکن عبدالموجود دردری کو مختلف سکیورٹی سکرینوں سے گزارے بغیر نکلنے میں مدد دی گئی تھی۔محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار کے مطابق ''ہم نے اخوان المسلمون سے مزید کچھ نہیں سنا تھا،اس لیے ان کے روانہ ہونے کا عمل بخیر وخوبی انجام پا گیا تھا''۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ دردری کو ایک ثانوی معائنے سے بائی پاس کرکے گزار دیا گیا تھا۔اس مرحلے میں ٹرانسپورٹ سکیورٹی انتظامیہ کے سکیورٹی ایجنٹ مسافروں کاسامان اور لیکٹرانک آلات وغیرہ چیک کرتے ہیں۔