.

زیر جامے میں27 ہزار ڈالرز چھپا کر لے جانے پر طالبہ کے خلاف مقدمہ

مراکشی نژاد برطانوی طالبہ شامی باغیوں کو استنبول کے ذریعے رقم پہنچانا چاہتی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک چھبیس سالہ طالبہ کو شامی جنگجوؤں کے لیے ستائیس ہزار ڈالرز کی رقم اپنے زیر جامے میں چھپا کر لے جانے کے الزام میں ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

نوال مسعد اور ان کی ساتھی امل الوہبی مراکشی نژاد برطانوی شہری ہیں۔برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان دونوں کو جمعرات کو لندن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور یہ دونوں پہلی برطانوی طالبات ہیں جن کے خلاف شامی تنازعے کے حوالے سے دہشت گردی میں معاونت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

مسعد لندن کی ایک جامعہ میں انڈرگریجوایٹ طالبہ ہیں۔انھیں گذشتہ ہفتے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر استنبول کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔انھوں نے نقدی رقم اپنے زیرجامے میں چھپا رکھی تھی اور اس کا سکیورٹی کیمروں سے پتا چل گیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے فوری بعد اس سازش میں شریک دوسری طالبہ الوہبی کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ان دونوں پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ ایک برطانوی جہادی کے ذریعے رقوم اسمگل کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔انھیں جب گذشتہ روز وسطی لندن کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہوائی اڈوں سے شام میں دہشت گردی سے تعلق کے الزام میں سترہ سال تک کی اسکول کی طالبات کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔گذشتہ سال شام سے متعلق دہشت گردی کی سرگرمیوں کے الزام میں چودہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانیہ کی انسداد دہشت گردی کمان کے سربراہ رچرڈ والٹن نے لندن سے شائع ہونے والے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ قریب قریب ناگزیر ہے کہ شام میں لڑنے والے سخت گیر جنگجو برطانیہ میں واپسی کے بعد دہشت گردی کے حملوں کی سازش بھی تیار کریں گے''۔

برطانوی پولیس اس وقت مشتبہ شامی جہادیوں یا دہشت گردوں کو اپنی نگرانی میں لانے کے ساتھ ساتھ شام کے لیے جہادی مشنوں کو منظم کرنے اور سہولت بہم پہنچانے والے برطانیہ میں مقیم افراد کی بھی تلاش میں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ اس وقت مغربی ممالک میں برطانیہ سے سب سے زیادہ جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے آرہے ہیں۔وہ القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیموں میں شامل ہورہے ہیں یا پھر شام کے سخت گیر گروپوں سے مل رہے ہیں اور ایسے جنگجوؤں کی وجہ سے ہی برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک میں تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ ایسے افراد اپنے آبائی ممالک میں واپسی کے بعد مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔