.

چین کی ریٹائرڈ معلمہ کی صبر آزما بُنت کاری

خاوند کے لیے 11 سال میں اپنے بالوں سے ہیٹ اور کوٹ تیار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینیوں نے گذشتہ نصف صدی کے دوران اپنی نت نئی اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات کے ذریعے دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوالیا ہے،اس کی دنیا کی کوئی اور قوم نظیر پیش نہیں کرسکتی ہے۔

چینی قوم نے دوسری اقوام کے مقابلے میں اپنی ایجادات اور مصنوعات کے ذریعے حیرت انگیز طور پر بیک وقت موجد اور نقال ہونے کا سب سے بڑا ثبوت بہم پہنچایا ہے اور چینی اپنی محنت اور جفاکشی کی بدولت ضائع اور ناقابل استعمال سمجھی جانے والی اشیاء یاخام مواد سے بھی کوئی نہ کوئی کارآمد چیز بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک ثبوت چین کی ایک ریٹائرڈ معلمہ ژیانگ رین ژیان نے اپنی صبر آزما بُنت کاری سے دیا ہے۔وہ اپنے سر سے گرنے والے لمبے بالوں کو ضائع کرنے یا ایسے ہی ٹھکانے لگانے کے بجائے ان سے اپنے خاوند کے لیے ہیٹ اور (اونی) کوٹ بُنتی رہی ہیں۔

انھوں نے مسلسل گیارہ سال تک یہ دقت طلب کام جاری رکھا اور ان سے سویٹر بننے والے کروشیے کی مدد سے اپنے خاوند کے لیے ہیٹ اور کوٹ تیار کیا ہے۔روزنامہ شنگھائی میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق معلمہ نے ان دونوں کی تیاری میں اپنے ایک لاکھ دس ہزار بال استعمال کیے ہیں۔

ان کے بال چونتیس سال کی عمر میں گرنا شروع ہوگئے تھے اور وہ تب سے ان کو جمع کررہی تھیں۔انھوں نے اُون کے طور پر جو بال استعمال کیے ہیں،ان کی اوسطاً لمبائی ستر سے اسی سینٹی میٹر تھی اور انھوں نے کروشیے سے پندرہ بالوں کی لڑی بنائی ہے۔

ژیانگ کا تعلق چین کے صوبے چانگ کنگ سے ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''نوجوانی کے زمانے میں خوبصورت لمبے بالوں کی وجہ سے میری شہرت تھی لیکن جب میری عمر ڈھلنا شروع ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری شکل وشباہت کی طرح میرے بال بھی اپنا حسن اور نکھار کھورہے ہیں۔میں اپنے بالوں کو محفوظ بنانا چاہتی تھی۔پھر مجھے ان بالوں سے اپنے خاوند کے لیے کچھ بُننے کا خیال آیا اور اس کی تیکنیک سمجھ میں آنے کے بعد میں نے کام شروع کردیا''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ دراصل مشکل کام نہیں تھا لیکن صبر آزما ضرور تھا۔میرے پاس وقت تھا۔اس لیے میں ایک طویل وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچانے میں کامیاب رہی ہوں۔مستقبل میں میرے بالوں کے ساتھ کیا ہوتا، یہ تو میں اب جانتی ہیں کہ یہ ہمیشہ مجھے اور میرے خاوند کو ماضی کی حسین یاد دلائیں گے''۔ان کا کہنا تھا کہ ''ان دونوں کو بُننے وقت بہت وقت تو ضرور لگا ہے لیکن آپ جانتے ہیں ان دنوں اون کتنی مہنگی ہے؟''