.

امریکا: شکم مادر میں بچوں کی خریداری، ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر میں بچہ فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی اسملگلنگ جیسے مکروہ دہندے سے نمٹنے میں عالمی ناکامی کے بعد اس گھناؤنے جرم کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کی خریداری کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں مائیں اپنے شکم میں موجود بچے کو ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کے عوض کسی بھی شخص کے ہاتھ فروخت کر دیتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گھناؤنے جرم پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جیسے ملکوں میں جہاں ایک سے زیادہ بچوں پر پابندی کے صاحب ثروت لوگ امریکا اور دوسرے ملکوں کا رُخ کرتے ہیں، جہاں وہ خواتین کے رحم میں موجود بچے کو ان کی منہ مانگی قیمت دے کراپنا لیتے ہیں۔ پیدائش کے بعد خریدے گئے بچے کواس کا مالک اپنے ساتھ اپنے ملک میں لے آتا ہے۔ امریکا میں کثرت اولاد پر پابندی نہ ہونے کے باعث وہاں پراس کاروبار کو پھلنے پھولنے میں مدد ملی ہے۔

برطانوی اخبار "ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ماؤں کے رحم میں بچوں کی خریداری کے سب سے زیادہ گاہک چین سے جاتے ہیں۔ سنہ 2012ء کے بعد امریکا میں اس کاروبار میں دو گنا اضافہ ہوا ہے اور مبصرین کے خیال میں پیش آئند دو برسوں میں یہ تعداد مزید کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین میں کم سے کم بچے پیدا کرنے کی پالیسی کے تحت نوجوانی ہی کی عمرمیں عورتوں کو بانجھ کردیا جاتا ہے۔ چین کی آبادی میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کا تناسب محض12.5 فی صد ہے جبکہ تین فی صد افراد بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی اولاد کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اولاد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے چینی امریکا جیسے ملکوں میں حاملہ خواتین کے ہاں بچے بک کراتے ہیں، جنہیں 80 ہزار سے ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر تک خریدا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دوسروں کے لیے کرائے پربچے جنم دینے والی خواتین کا امریکا میں ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ ان کی اکثریت جنوبی امریکا کے غریب ملکوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر نے کبھی کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔ جو خواتین براہ راست کسی غیر ملکی گاہک کے ہاتھ نہیں چڑھتیں وہ مختلف ایجنسیوں کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں۔ ایجنٹ انہیں ایک ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کے بجائے صرف 25 ہزار ڈالرمیں ٹرخا دیتے ہیں۔