.

شاہراہ کا نام "عمر بن خطاب" رکھنے پر ایرانی قدامت پسند حلقے چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اہل تشیع کی اکثریت اور ان کی نمائندہ حکومت کی جانب سے اہل سنت مسلک کی علامات کو دانستہ طور پر دبانے کوشش کی جاتی رہتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ محض الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ ایرانی سخت گیر شیعہ حضرات جب بھی کہیں اہل سنت کی کوئی علامت دیکھتے ہیں تو اس پر فورا سیخ پا ہوجاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان دِنوں ایران کی ایک مرکزی شاہراہ کا نام دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے موسوم کرنے پر قدامت پسند ابلاغی ادارے اور عوامی حلقے سخت برہم دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے شمال مغربی سنی اکثریتی صوبہ کردستان کے شہر"سقز" کی بلدیہ نے حال ہی میں ایک مرکزی شاہراہ کا نام "عمر بن خطاب" رکھا تو شدت پسند شیعہ حلقوں میں سخت تشویش اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔

قدامت پسندوں کی ترجمان نیوز ویب پورٹل "شیعہ آن لائن" نے شاہراہ عام کا نام دوسرے خلیفہ حضرت عمر کے نام سے موسوم کرنے کو "غیر منطقی، خلاف عقل اور اہل تشیع کی توہین قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کی مظلومیت ثابت ہو گئی ہے۔

ایک دوسرے نیوز ویب پورٹل "شہداء" نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران جیسے شیعہ اکثریتی ملک میں کسی شاہراہ کا نام حضرت عمر کے نام سے منسوب کرنا نہ صرف شیعہ مسلک کے پیروکاروں کے لیے باعث حیرت ہے بلکہ تشویش کا بھی موجب ہے۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ ایرانی حکومت اور قدامت پسند اہل تشیع کے موقف میں فرق ہے۔ ایرانی دستور کے تحت شہری حکومتیں اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی جگہ یا اس علاقے کو کسی اہم تاریخی شخصیت کے نام کے ساتھ منسوب کرسکتی ہیں۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ البتہ ایران کے سخت گیر شیعہ حضرات ایران کے چپے چپے کو صرف شیعوں کی ملکیت سمجھتے ہیں۔

یوں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان شخصیات کے ناموں پر چھیڑ چھاڑ چلتی رہتی ہے۔ گذشتہ برس بھی سقز شہر کی بلدیہ نے ایک بڑے پارک کا نام حضرت عمر کے نام سے موسوم کر دیا تھا جس پر اہل تشیع برہم ہو گئے تھے۔