.

سوچی اولمپکس:لبنانی اسکائیر کی نیم عریاں ویڈیو کی دھوم

دوشیزہ کی نیم عریاں ویڈیو پر لبنانیوں سے معذرت،مگر کوئی پچھتاوا نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شہر سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپک مقابلوں میں شریک ایک لبنانی دوشیزہ کی ماضی میں بنائی گئی نیم عریاں ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے اور اس کی انٹرنیٹ پر خوب تشہیر کی جارہی ہے۔

اسکائیر جیکی شمعون کی یہ ویڈیو ان کی ایک آسٹرین کیلنڈر کے لیے خصوصی تصاویر کھینچتے وقت تین سال قبل بنائی گئی تھی لیکن اس کو گذشتہ سوموار کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کردیا گیا ہے۔اس ویڈیو میں جیکی شمعون برف پر نیم عریاں حالت میں پڑی ہوئی نظرآرہی ہیں اور وہ اپنی سفید رنگ کی جیکٹ کو اتار پھینکتی ہیں۔ان کی ٹانگیں بالکل ننگی نظر آرہی ہیں۔

ویڈیو میں بائیس سالہ جیکی عریاں ٹانگیں پسارنے کے علاوہ بھی اپنی جسمانی نمائش کررہی ہیں۔اس میں ان کی فوٹو گرافر کے ساتھ مختصر گفتگو بھی شامل ہے۔اس میں وہ فوٹو گرافر ان سے کہہ رہا ہے کہ ''کیا ایک ماڈل بننا زیادہ آسان ہے یا اسکائی انسٹرکٹر؟اس سوال کا وہ کچھ یوں جواب دیتی ہیں:''اسکائی بننا زیادہ آسان ہے کیونکہ میں کپڑوں کے بغیر تصاویر بنوانے کی عادی نہیں ہوں''۔

جیکی شمعون کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اور فوٹو شوٹ تین سال قبل فلم بند کیا گیا تھا لیکن اس کو الجدید ٹیلی ویژن نے اب دوبارہ نشر کردیا ہے اور اس کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر شروع ہوگئی ہے۔انھوں نے اس کو ایک اسکینڈل قراردیا ہے جبکہ جس کیلنڈر کے لیے یہ تصاویر بنائی گئی تھیں ،وہ بھی اکتوبر سے ختم ہوچکا ہے۔

جیکی سمیت صرف دو لبنانی ایتھلیٹس سوچی میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں حصہ لے رہی ہیں لیکن ان کی نیم عریاں تصاویر اور ویڈیو کی تشہیر سے ان کے اپنے ملک میں بہت بدنامی ہورہی ہے اور خود حکومت نے اس کو ناپسندیدہ عمل اور لبنانی تشخص کو مجروح کرنے کی کوشش قراردیا ہے۔

انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں لبنانیوں سے ان تصاویر پر معافی مانگ لی ہے اور لکھا ہے کہ ''میں انٹرنیٹ پر گذشتہ روز(سوموار کو) لبنان میں تصاویر کو شئیر کرنے اور ان پر تبصرے لکھنے والوں پر واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے ہی یہ تصاویر دوسرے پروفیشنل ایتھلیٹس کے ساتھ ایک آسٹرین کیلنڈر کے لیے بنوائی تھیں''۔

انھوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ لوگ کیوں اپ سیٹ ہوئے ہیں اور لکھا ہے کہ ''میں آپ سب لوگوں سے معافی چاہتی ہوں۔میں جانتی ہوں کہ لبنان ایک قدامت پسند ملک ہے اور یہ ہماری ثقافت کی عکاسی کرنے والا امیج نہیں ہے۔اگر آپ اس پر تنقید کرتے ہیں تو میں اس کو مکمل طور پر سمجھتی ہوں''۔

منگل کو ایک اور پیغام میں جیکی شمعون نے لبنانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تصاویر اور ویڈیو کی سوشل میڈیا پر تشہیر کا سلسلہ بند کردیں تا کہ وہ اولمپک مقابلے میں اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرسکیں۔

ان کے اس بیان کے بعد فیس بُک پر ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوگئی ہے اور قریباً تین سو افراد نے اس معذرت نامے پر تبصرے کیے تھے جن میں انھوں نے جیکی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا اور بعض نے یہ بھی لکھا کہ انھیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں تھی۔

ان کے فیس بُک صفحے کے دوہزار مزید پسند کار پیدا ہوگئے ہیں لیکن لبنان میں ہرکسی نے ان کے طرزعمل اور عریاں تصاویر اور ویڈیو کو پسند نہیں کیا۔نگران وزیرکھیل اور امورنوجواناں فیصل کرامی نے لبنان کی اولمپک کمیٹی کے سربراہ کو اس واقعہ کی تحقیقات اور ملکی عزت وشہرت کے تحفظ کے لیے کہا ہے۔

سوچی میں لبنان کے اولمپک وفد کے سربراہ جین ہمام کا کہنا ہے کہ جیکی شمعون کے میڈیا سے گفتگو پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔تاہم لبنان میں ان کی مذمت کے باوجود عالمی میڈیا نے ان کی خوب پذیرائی کی ہے کیونکہ اس کے ہاتھ وہ مال آیا ہے،جس کی خوب بکری ہوسکتی ہے۔

اس سب کے باوجود لبنانی اسکائیر کو ماضی میں بنائی گئی ان عریاں تصاویر اور ویڈیو پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تصاویر کو پسند کرتی ہیں۔وہ آسٹریا کے جس سالانہ اسکائی انسٹرکٹرز کیلنڈر میں نمودار ہوئی تھیں،اس میں ان کی ساتھی لبنانی اسکائیر انتیس سالہ شیریں نجیم کی بھی تصاویر ہیں۔سوچی میں وہ خواتین کے اسکائی مقابلے میں 18 اور 21 فروری کو حصہ لیں گی۔