.

عراق: الانبار میں اسامہ کی تصویر والی القاعدہ کرنسی کا اجراء

100اسلامی پاؤنڈ کے نوٹوں پر داعش کے لیڈر اور وزیر خزانہ کے دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور مقامی جنگجوؤں کے خلاف بر سر پیکار القاعدہ کی بغل بچہ تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے اپنے کرنسی نوٹوں کا اجراء کیا ہے جن پر القاعدہ کے مقتول لیڈر اسامہ بن لادن کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

عربی نیوز میڈیا کی رپورٹ کے مطابق داعش نے عراق کے مغربی صوبہ الانبار اور عراق، شام سرحد پر اپنے کنٹرول والے علاقوں میں اس نئی کرنسی کا اجراء کیا ہے۔ اس کرنسی کو اسلامی پاؤنڈ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تصاویر متعدد عرب میڈیا ذرائع نے شائع کی ہیں۔

ایک سو اسلامی پاؤنڈ کے نوٹوں پر داعش کے لیڈر اور وزیر خزانہ کے دستخط ہیں لیکن ان دونوں کے نام واضح حروف میں شائع نہیں کیے گَئے تا کہ ان کی شناخت چھپی رہے۔

چند روز قبل الانبار میں صحوہ کونسل (القاعدہ مخالف سنی قبائلی نوجوانوں پر مشتمل ملیشیا) کے سربراہ شیخ احمد ابو ریشہ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ دولت اسلامی عراق وشام صوبے میں اپنی نئی کرنسی جاری کرنے والی ہے۔

ان کا یہ بیان اس بات کا بیّن ثبوت تھا کہ عراق کے سنی اکثریتی صوبے میں القاعدہ کی بغل بچہ تنظیم نے اپنا مضبوط کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ القاعدہ کی عالمی تنظیم داعش کی شام میں وحشیانہ اور سفاکانہ جنگی کارروائیوں کے بعد اب اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔

داعش سے وابستہ جنگجوؤں اور مقامی سنی قبائل نے دسمبر کے آخر سے الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی، فلوجہ دوسرے قصبوں وشہروں میں اپنا مکمل کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔عراقی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان کے درمیان آئے دن خونریز جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔

عراقی فوج اور اس کے اتحادی مسلح قبائلیوں نے الانبار میں جھڑپوں کے دوران القاعدہ سے وابستہ بیسیوں اسلامی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے دعوے کیے ہیں لیکن دو ماہ ہونے کو آئے ہیں عراقی فوج داعش سے صوبے کا کنٹرول واپس نہیں لے سکی ہے جبکہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی القاعدہ کے خلاف عالمی برادری کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔