.

ملکہ برطانیہ کے پورٹریٹ گمنام ریستوران کی وجۂ شہرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ کو تخت شاہی پرمُتمکن ہوئے 62 برس ہونے کو ہیں۔اس عرصے میں امریکا میں11 صدربدلے۔ سیکڑوں عالمی اورعرب لیڈر تخت نشین ہوئے لیکن قصہ پارینہ ہوگئےمگر ملکہ برطانیہ کے تاج وتخت کی رونقیں ان کی ڈھلتی عمر کے ساتھ بڑھتی چلی گئیں۔

کئی ممالک میں آج بھی برطانیہ کا سکہ توچلتا ہی ہے مگرجب تک سکے اور کرنسی نوٹ پرملکہ کی تصویر نہ چھاپی جائے اس وقت تک سکے کی کوئی 'قدر' نہیں ہوتی۔ اس وقت انگلستان اور دولتِ مشترکہ کے بعض مُمالک کے ہاں ملکہ کی تصویر پرمبنی اربوں کرنسی نوٹ موجود ہیں۔

گمنام لوگوں یا جگہوں کی مشاہیرعالم سے نسبت انھیں گوشہ گمنامی سے نکال کرلافانی شہرت عطا کرتی ہے۔ ملکہ برطانیہ کی شہرت ابدی اورلندن کے ایک چھوٹے سے ریستوران کا گمنامی سے شہرت تک کا سفربھی اس کی ایک تازہ مثال ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریستوران کے مالک ایک عرب نژاد حسین ابراہیم2002ء میں لندن میں ؛متحدہ عرب امارات کےسفارت خانے میں ملازم تھے۔ ملازمت سےفراغت کے بعد انھوں نے وہیں(لندن میں) ایک مصروف بازار میں"پٹرا" کے نام سے ایک ریستوران کھولا۔

ہرکوئی اپنےکاروبارکو وسعت دینے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کرتا ہے۔ حسین نے بھی اپنے ریستوران کی دن دگنی رات چگنی ترقی کے لیے مختلف"آئیڈیاز" وضع کیے۔ تاہم اس میں ایک آئیڈیا ایسا 'کلِک' ہوا کہ بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے بیچ حسین کا ریستوران گوشہ گمنامی سے نکل کرعالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

حسین نے اپنے ہوٹل کا نام "پٹرا" سے تبدیل کرتے ہوئے برطانوی ملکہ کی نسبت سے "The Queen" رکھا۔ ہوٹل کی بیرونی دیوار پرملکہ ایلزبتھ کے دو دیو ہیکل پورٹریٹ نصب کیے۔ یہ پورٹریٹ اتنے بڑے ہیں کہ اگرسولہ کلو میٹر دورفضاء میں طیارے سے دیکھا جائے توملکہ کی تصویریں صاف پہچانی جاسکتی ہیں۔ گو شہرت کا یہ تخیل بعض اعتبارسے متنازعہ بھی ہے لیکن حسین کی فن کارانہ مہارت کا منہ بولتاثبوت بھی ہے۔

ملکہ کے نام سے نسبت کیوں؟

حسین ابراہیم کے بارے میں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا وہ فلسطینی نژاد ہیں یا اردنی۔ تاہم ان کا عربی آہنگ میں اپنے ریستوران کو شہرت دینے کا تجربہ کافی دلچسپ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حسین ابراہیم کے ساتھ متعدد مرتبہ ٹیلیفونک رابطے کی کوشش کی۔ لندن میں اس کے ریستوران سے ایک خاتون ملازمہ نے فون اٹھایا، جس نے بتایا کہ حسین کبھی کبھار ہی ہوٹل آتے ہیں۔ خاتون نے حسین کا موبائل نمبردینےسے بھی معذرت کی،تاہم یقین دلایا کہ وہ حسین تک ہمارا پیغام ضرور پہنچائے گی۔

حسین ابراہیم کے قائم کردہ ریستوران کے پیش منظرمیں ملکہ برطانیہ کی تصاویر تو اہلِ لندن میں کافی مقبول ہوئی ہیں لیکن خود حسین کی کوئی ایک تصویربھی نہیں مل سکی ہے۔

جہاں تک ریستوران میں تیار ہونے والے کھانوں کی ملکہ کےساتھ نسبت کا تعلق ہے تو اس بات کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہو پائی کہ آیا ؛ملکہ کوئلے پر بھونے ہوئے سیخ کباب، شیشے یا لوبیا میں سے کسی ایک چیز میں بھی کوئی دلچسپی رکھتی ہیں۔

یہی بات اخبار"ڈیلی میل" نے ریستوران کے مالک حسین ابراہیم کے خاندان کی ایک خاتون مارگریٹ ٹائلر سے دریافت کی تو اس نے حیرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ "میرا نہیں خیال کہ ملکہ معظمہ نے کبھی کباب اور شیشہ پسند کیا ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں سوچ سکتی کہ کوئی شخص اپنے کاروبار کی شہرت کے لیے ملکہ معظمہ کی تصویر کا سہارا لے سکتا ہے''۔

حسین ابراہیم کے اس اقدام کو اس کی سادگی اور لاعلمی سے تعبیر کیا جائے یا چالاکی سے، کیونکہ برطانیہ میں کوئی شخص حتیٰ کہ شاہی خاندان کا کوئی فرد بھی کاروبار کی پبلسٹی کے لیے ملکہ جیسی محترم شخصیت کی تصویر استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ برطانوی شاہی خاندان میں ایسی کوئی روایت نہیں رہی اور نہ ہی شاہی خاندان میں شیشہ پینا اور بھونا ہوا گوشت تناول کرنا کوئی اہمیت رکھتا ہے۔ البتہ وہ تمام اشیاء جن کا ریستوران کے بورڈ پر ذکر ہے،وہ عرب ممالک کے لوگوں کا مشغلہ ضرور ہیں۔