.

سعودی عرب میں اخبار کی پہلی خاتون مدیرہ اعلیٰ کا تقرر

سعودی مملکت میں خواتین پر خودساختہ پابندیوں کے بندھن ٹوٹنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کثیرالاشاعت روزنامے سعودی گزٹ کی انتظامیہ نے ایک خاتون کو مدیرہ اعلیٰ مقرر کیا ہے۔

سمیّہ الجبرتی سعودی مملکت میں کسی قومی روزنامے کی مدیرہ اعلیٰ بننے والی پہلی خاتون ہیں۔انھیں سعودی گزٹ کے تجربے کار ایڈیٹر انچیف ،معروف صحافی خالد المعینا کی جگہ اخبار کی ادارت کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔وہ اس سے پہلے اخبار کی نائب مدیرہ کے طور پر کام کررہی تھیں۔

سمیّہ جبرتی نے العربیہ نیوز سے اپنے تقرر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کی مدیرہ اعلیٰ بننے کے بعد ان پر دُہری ذمے داریاں عاید ہوگئی ہیں اور ان کے اقدامات دوسری سعودی خواتین کے بھی عکاس ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان کی کامیابی اس وقت تک نامکمل رہے گی جب تک میڈیا میں کام کرنے والی دوسرے سعودی خواتین بھی فیصلہ سازی کے کردار کی حامل ذمے داریاں سنبھال نہیں لیتی ہیں''۔

وہ مارچ 2011ء میں سعودی گزٹ کے عملۂ ادارت میں شامل ہوئی تھیں۔اس سے قبل وہ اس کے معاصر روزنامے عرب نیوز میں نو سال تک کام کرتی رہی تھیں اور ترقی کرتے اس کی نائب مدیرہ کے عہدے تک پہنچی تھیں۔

سمیّہ کا کہنا ہے کہ ''وہ سعودی گزٹ میں کسی صنفی یا نسلی مغالطے میں نہیں پڑیں گی''۔واضح رہے کہ اس اخبار کے کل بیس رپورٹرز ہیں۔ان میں سترہ خواتین اور صرف تین مرد ہیں جبکہ ادارتی عملہ میں اکثریت مردوں کی ہے۔

ان کے پیش رو خالدالمعینا کو سعودی گزٹ کا عمومی مدیر (ایڈیٹر ایٹ لارج) مقرر کردیا گیا ہے۔خالد المعینا نے سعودی گزٹ میں اس تبدیلی کی تصدیق کی ہے اور سمیّہ جبرتی کے تقرر کو ایک تاریخی اقدام قراردیا ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ سعودی عرب کے کسی انگریزی یا عربی روزنامے کی پہلی خاتون مدیرہ اعلیٰ ہیں اور سعودی مملکت میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔انھیں ایک عورت ہونے کے ناتے یہ اہم صحافتی ذمے داری نہیں سونپی گئی ہے بلکہ وہ اس کی اہل اور حق دار تھیں۔