.

ھیفاء وہبی کی نقالی کے ذریعے مونیکا بلّوچی بننے کی کوشش

مصری فلم کے مناظر میں اطالوی ایکٹریس کے اشتہار کا ہوبہو چربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی فلم انڈسٹری پر بھارت جیسی چربہ فلمیں بنانے کے الزامات تو سامنے آتے رہے ہیں اور بعض پاکستانی فلم ساز بڑی ہوشیاری سے بھارتی فلموں کی مکمل کہانی سے لے کر مناظر تک کی نقل کرتے رہے ہیں اور وہ خود کم ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہے ہیں۔اسی لیے پاکستانی فلمی صنعت جان کنی کے عالم میں ہے۔

پاکستان کی فلمی صنعت چربہ سازی کے اس فن میں تنہا نہیں ہے،مصر کی فلمی صنعت بھی اس معاملے میں اس کی ہم پلہ بلکہ رقیب ہے لیکن مصری کسی عرب ملک میں بننے والی فلم کے بجائے یورپی ممالک میں بننے والی فلموں یا ڈراموں کی نقالی کو ترجیح دیتے ہیں۔

مصر کے ایک فلم ڈائریکٹر نے ایسا ہی مظاہرہ اپنی تازہ بننے والی فلم ''روح کی مٹھاس''(عربی میں حلاوۃ روح) میں کیا ہے۔اس فلم میں عریاں مناظر فلم بند کرانے کے لیے مشہور لبنانی اداکارہ ھیفاء وہبی مرکزی کردار ادا کررہی ہیں اور دراصل انھوں نے ہی اس فلم میں مشہور اطالوی اداکارہ مونیکا بلّوچی کے اشتہار کی شعوری یا لاشعوری طور پر نقالی کی ہے۔

اس فلم کا ٹریلر ان دنوں مصر میں دکھایا جارہا ہے لیکن ابھی یہ ریلیز نہیں ہوئی ہے۔مصری سنسر بورڈ اس فلم میں موجود بعض قابل اعتراض اور انتہائی نازیبا مناظر کے باوجود اس کی منظوری دے چکا ہے۔

فلم میں ھیفاء نے اطالوی اداکارہ مونیکا بلّوچی کے مشہور زمانہ مارٹینی گولڈ کے تجارتی اشتہار میں انداز ولباس کی ہوبہو نقالی کی ہے اور لبنان کے ایک ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے ایک پروگرام میں ان دونوں کے درمیان حیرت انگیز مماثلتوں کو دکھایا گیا ہے۔

مصری فلم کے حال ہی میں جاری کردہ ٹریلر میں ھیفاء وہبی نے سرخ رنگ کا ادھورا سوٹ زیب تن کررکھا ہے۔وہ اطالوی قصبے کے ایک چوک میں مردوں کے درمیان موجود ہیں۔2010ء میں مارٹینی گولڈ کے اشتہار میں ہالی ووڈ کی عریانیت کے لیے مشہور بلوچی بھی اسی طرح کے مقام میں نمودار ہوئی تھیں۔

اپنے جسموں کی نمائش کرنے والی ان دونوں اداکاراؤں کی اشتہار اور فلم کے ٹریلر میں بہت سی مماثلتیں سامنے آئی ہیں۔دونوں نے سیاہ رنگ کے بڑے بڑے چشمے اور چست کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ دونوں کے کیمروں کا زاویہ بھی ایک جیسا ہے۔

ٹریلر میں لبنانی حسینہ سگریٹ نوشی کررہی ہیں اور وہ جس انداز میں سگریٹ کے کش لگارہی ہیں،اسی انداز میں مونیکا بلوچی 2010ء میں بنی ایک اطالوی فلم میں لگاتی نظرآرہی ہیں۔اس طرح ھیفاء وہبی نے بلوچی کی کچھ تو نقالی اشتہار کے مناظر سے کی ہے اور کچھ سین اطالوی فلم کے مطابق بنوا لیے ہیں۔

لیکن اس فلم کے ڈائریکٹر سامح عبدالعزیز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس تمام تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا کہ ھیفاء کے سگریٹ سلگانے کا سین مونیکا بلوچی کے مشابہ ضرور ہے لیکن ہم نے اس سین کو بھی مختلف انداز میں فلمایا ہے۔جب ان سے مذکورہ بالا مماثل مناظر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے تنقید کو مسترد کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ''ان کی فلم مکمل طور پر مختلف ہے اور لوگ اس کے اجراء کے بعد اس سے متعلق کوئی فیصلہ کریں''۔لیکن مصر کے مشہور فلمی نقاد طارق الشناوی ان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بڑی مہارت سے چربہ سازی کی ہے اور ایک ایسے اشتہار کی نقالی کی ہے جس کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور جو بہت مقبول ہوا ہے۔

طارق شناوی نے تو مصری فلموں کا تمام کچا چٹھا کھول دیا ہے اور کہا کہ ''مصری فلمی صنعت کی پیش کردہ بہت سی فلموں میں دوسروں اور خاص طور پر یورپیوں کی نقالی کی جاتی ہے لیکن اس کیس میں تو بڑی دیدہ دلیری سے سرقے سے کام لیا گیا ہے اور اب اس کا پروپیگنڈا بھی کمال دلیری سے کیا جارہا ہے''۔