.

مصری کوہ پیماؤں کو بچانے میں ناکامی پر فوج کو تنقید کا سامنا

امدادی سرگرمیوں میں تاخیرسے 4 کوہ پیما برفباری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکومت اور فوج کو سوشل میڈیا پر آٹھ کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تاخیر پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور فوجی طیارہ یا ہیلی کاپٹر بروقت نہ بھیجنے کی وجہ سے ان میں سے چار کوہ پیما جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے آٹھ کوہ پیما گذشتہ جمعرات کو جزیرہ نما سیناء کے جنوبی پہاڑی علاقے سینٹ کیتھرین کی جانب گئے تھے۔وہ اس علاقے میں برفانی طوفان میں گھر کررہ گئے اور پہاڑی علاقے میں راستہ بھول گئے۔ان میں سے چار بعد میں منگل کو مردہ پائے گئے ہیں۔

ان کوہ پیماؤں کے دوستوں نے بتایا ہے کہ جب ان کا رابطہ منقطع ہوگیا تو انھوں نے حکام کو فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کے لیے آگاہ کیا مگر بے سود اور فوری طور پر کوئی امدادی کارروائی نہیں کی گئِی۔

ان کوہ پیماؤں کے دوستوں میں سے ایک تمر عبدالعزیز نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اتوار کو واپس آنا تھا لیکن جب وہ واپس نہیں پہنچے تو انھوں نے حکام کو ان کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی لیکن ہم حکام کی جانب سے یہ سن کر ہکا بکا رہ گئے کہ ان کوہ پیماؤں کو علاقے کی جانب جانے سے پہلے خبرد؛ار کرنا چاہیے تھا۔

تمر نے مزید بتایا کہ جب انھوں نے حکام کو اپنے دوست کوہ پیماؤں کے بارے میں آگاہ کیا کہ وہ مصری ہی ہیں تو یہ سن کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اگر ان میں کوئی غیرملکی ہوتا تو پھر ہیلی کاپٹر فوری طور پر بھیجنے کے لیے اجازت نامہ جاری کردیا جاتا۔فون کال سننے والے اہلکار نے بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کوہ پیما مصری ہیں اور ان کی فوری طور پر کوئی مدد نہیں کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب مصری آرمی کے ترجمان کرنل احمد محمد علی نے اس تنقید کا اپنے تئیں توڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا کہ علاقے میں درجہ حرارت منفی گیارہ ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا تھا۔اس لیے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئی ہیں۔

جنوبی سیناء کی گورنری کے سرکاری ترجمان جنرل عادل کساب نے بھی ان کوہ پیماؤں کے دوست احباب کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ حکام بروقت امدادی سرگرمی انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا مشن مذہب اور قومیت سے قطع نظر انسانی جان بچانا ہے۔

اس ترجمان کے بہ قول سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے فوری امدادی سرگرمیوں میں تاخیر ہوئی تھی۔تمام پہاڑی علاقہ برف سے اٹا ہوا تھا اور ہیلی کاپٹر کو اترنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔اس ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدید برف باری میں ہلاک ہونے والے چار کوہ پیماؤں کی لاشیں اٹھائی گئی تھیں لیکن مصری شہری تاخیر سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور سرکاری ترجمانوں کے جاری کردہ بیان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور انھوں نے سوشل میڈیا پر فوج اور حکومت کے خلاف تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اور تو اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے بھی کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر حکام کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور ان کی جماعت عدل اور حریت پارٹی نے فوجی انقلاب کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

فیس بُک پر ایک لکھاریہ سارہ عمرو نے لکھا ہے کہ ''سینٹ کیتھرین کے واقعہ کے بعد اب جو کوئی بھی کوہ پیمائی کے لیے جانا چاہتا ہے تو اس کو اپنے ساتھ غیرملکیوں کو بھی لے جانا چاہیے تا کہ کسی مشکل صورت میں اس کی جان تو بچائی جاسکے''۔

ایک اور عمرو مدحت نے لکھا ہے کہ ''ہمارے پاس اپاچی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی بڑی تعداد موجود ہے جو 30 جون کو احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد تو شمار کرتے رہے تھے اور ان میں سے ہر ایک کی تصاویر بھی لے رہے تھے لیکن وہ پہاڑی علاقے میں مرنے والی جانوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکے ہیں''۔

گذشتہ سوموار کو جنوبی سیناء کے پہاڑی علاقے سے تین کوہ پیماؤں خالد السباعی ،حجر شلبی اور احمد عادل اعظم کی برف میں منجمد شدہ لاشیں ملی تھیں۔چوتھے کوہ پیما اور مصری فلم ساز محمد رمضان کی لاش ان تینوں کی لاشوں سے چار سو میٹر دور بدھ کی صبح ملی ہے۔

آٹھ میں سے چار کوہ پیماؤں یسریٰ منیر ،ماہا الاسود ،ایہاب قطب اور محمود فاروق کو مقامی بدو گائیڈز نے بچا لیا تھا لیکن مصر کی سرکاری رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں کو فوج نے بچایا ہے۔تاہم تمر عبدالعزیز نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور العربیہ کو بتایا کہ یسریٰ کے والد نے اتوار کی شام پولیس کو ان کے لاپتا ہونے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن سوموار کی شام تک سرکاری حکام کی جانب سے کچھ بھی نہیں کیا گیا تھا بلکہ حکام کی جانب سے ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ رات کے وقت امدادی ہیلی کاپٹر اڑ نہیں سکتے ہیں۔