.

وینزویلا مظاہرے میں گولی لگنے سے ملکہ حسن کی موت

حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ایک ہفتے سے وینزویلا حکومت کے خلاف جاری احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن رہ نما لیو بولڈو لوبیز کی حمایت اور حکومت می مخالفت میں نکالے گئے ایک جلوس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ملکہ حسن جینزس کارمونا ہلاک ہو گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 22 سالہ کارمونا کو گولی اس وقت لگی جب وہ فالنسیا شہر میں حکومت کے خلاف ایک احتجاجی ریلی میں شریک تھی۔ اس دوران نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے ریلی پر فائرنگ کی گئی۔ ایک گولی کارمونا کے سر میں لگی جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں کی بھرپور کوشش کے باوجود وہ جاںبر نہ ہو سکی اور دس گھنٹے کی موت وحیات کی کشمکش کے بعد انتقال کر گئی۔

جینیز کارمونا وینزویلا میں سوشل سائنسز کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی مشہور فیشن ماڈل تھی۔ چھ ماہ بعد وہ سوشل سائنسز کی ڈگری لینے والی تھی تاہم اس کے تمام خواب ایک گولی نے چکنا چور کر دیے۔ کارمونا کو پچھلے سال ریاست "کارابوبو" سے مس یونیورس منتخب کیا گیا تھا۔ وہ رواں سال بھی وینزویلا سے عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کے لئے پر تول رہی تھی۔

میڈیا کی جانب داری

وینزویلا میں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک کم سے کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن مقامی اخبارات کی جانب سے ان کی کوئی موثر انداز میں خبر دی گئی ہو حتیٰ کہ اداکارہ کارمونا کی موت کی خبربھی نظرانداز کردی گئی۔

حکومتی دباؤ کے شکار میڈیا نے چھوٹی سی خبر کے ساتھ کارومونا کی موٹرسائیکل پر اٹھائے اسپتال لے جاتے ہوئے جو تصویر شائع کی ہے اس کے نیچے"وینزویلا کی ندا سلطان" لکھا گیا۔ ندا سلطان ایران کی متحرک سماجی خاتون رہ نما تھیں جو سنہ 2009ء کو سابق صدر محمود احمدی نژاد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جان بحق ہو گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مشہور فیشن ماڈل اور ملکہ حسن کی ہلاکت کے بعد صدر نیکولس ماڈورو کےخلاف عوامی احتجاجی تحریک میں شدت آ گئی ہے اور حکومت مخالف رہ نماؤں نے صدر سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ مزید تیز کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ وینزویلا میں گذشتہ سوموار کے روز اپوزیشن رہ نما لیو بولڈو لوبیز کی اپیل پرحکومت کےخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی گئی تھی۔ حکومت نے اپوزیشن رہ نما سمیت دسیوں سیاسی مخالفین کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکا نے وینزویلا میں جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں پرتشدد مظاہرے افسوسناک ہیں۔ حکومت اپوزیشن رہ نماؤں کے مطالبات فوری پورے کرے اور گرفتار کیے گئے تمام سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کرے۔